’بغیر کسی شرط، ضمانت، تحفظات کے حمایت درکار ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 جنوری 2013 ,‭ 22:54 GMT 03:54 PST

پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا ہے افغانستان، پاکستان اور خطے میں امن کی خاطر پاکستان کی مکمل حمایت درکار ہے بغیر کسی شرط، ضمانت یا تحفظات کے۔

یہ بات رچرڈ اولن نے سٹریٹجک سسٹڈیز اسلام آباد میں امریکہ کے پاکستان اور افغانستان کے سات تعلقات اور 2014 کے بعد سکیورٹی کی منتقلی کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

پاکستان کے لیے امریکی امداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیری لوگر برمن ایکٹ کے تحت پچھلے تین برسوں کے دوران امریکہ پاکستان کو تین ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم دے چکا ہے جبکہ پاکستان کے سیکیورٹی کے اداروں جدید آلات اور تربیت کی فراہمی پر ایک ارب سالانہ کی ادائیگی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس کے علاوہ شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں تعاون کی مد میں پچھلے سال کے دوران ایک اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔

ان کے بقول 2001 سے لے کر اب تک پچھلے بارہ برسوں میں کوالیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں امریکہ پاکستان کو دس ارب ڈالر کی رقم دے چکا ہے۔

امریکی سفیر نے کہا کہ اگر افغانستان میں امن میں ہم سنجیدہ ہیں تو ہمیں مل کر کام کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دیرپا امن سے پورے خطے کو فائدہ ہے اور پاکستان خطے کو جوڑنے کے حوالے سے بہت اہم ہے۔

پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا ہے کہ امریک1989 کی غلطیوں کو نہیں دہرائے گا اور 2014 کے بعد بھی خطے سے لاتعلق نہیں رہے گا۔

یاد رہے کہ 2014 میں امریکہ اور نیٹو کی افواج افغانستان سے انخلا کر رہی ہیں۔

اپنے خطاب میں سفیر اولسن نے کہا کہ ہم یہ یقین دلاتے ہیں 2014 میں 1989 کو دہرایا نہیں جائے گا۔

’ہماری توجہ صرف دسمبر 2014 تک مرکوز نہیں ہے بلکہ ہم اس کے آگے کے بارے میں سوچ رکھتے ہیں۔ پاکستان اور خطہ کی اہمیت میں اضافہ ہوگا۔‘

دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعاون پر مبنی طویل مدتی شراکت داری کا خواباں ہے۔

امریکی سفیر نے کہا کہ افغانستان کا مستقبل امریکہ کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے لیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کو مل کر افغانستان امن مذاکرات کو فروغ دینا ہے جو افغانستان، پاکستان اور اس خطے کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے امن مذاکرات جو افغانستان کی سرپرستی میں ہوں اس کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو گا جب ایک عوامی حکومت آئین کے مطابق اپنے اختیارات اگلی منتخب اسمبلی کے سپرد کرے گی جو پاکستانی عوام کی نمائندہ ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حمایت کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی فرد کے ساتھ نہیں لیکن ہم ان اداروں کی مستقل مدد کریں گے جوصاف اور شفاف عمل پر یقین رکھتے ہیں جو کہ تمام پاکستانیوں کی بھی نمائندگی کرے۔

اس کے علاوہ رچرڈ اولسن نے زور دیا کہ امریکہ پاکستان کو توانائی، اقتصادیات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مدد فراہم کرے گا اور مستقبل میں امریکہ پاکستان میں طویل مدتی سرمایہ کاری کرے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔