فیئر ٹرائل ایکٹ سینٹ سے منظور

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 فروری 2013 ,‭ 16:34 GMT 21:34 PST
پاکستانی پارلیمنٹ

پاکستانی پارلیمنٹ میں ایوان بالا کے سیشن میں یہ بل پیش کی گئی ہے۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ نے فیئر ٹرائل بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت چھ سکیورٹی ایجنسیوں کو مشتبہ افراد کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے، ای میل کی نگرانی اور سی سی ٹی وی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت ہوگی۔

قومی اسمبلی یہ بل پہلے ہی منظور کرچکی ہے، اس قانون کا اطلاق پاکستان کے تمام شہریوں پر ہوگا چاہے وہ ملک کے اندر ہوں یا بیرون ملک یا پھر سمندری حدود میں یا فضائی حدود میں۔

وزیر قانون فاروق نائیک کے مطابق اس قانون کا مقصد انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے یکطرفہ اختیارات پر انتظامی اور عدالتی نظر داری کے تحت کرنا ہے۔ حکومت کے مطابق اس قانون کے تحت عدالتوں میں الیکٹرانک آلات اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اکٹھے کردہ شواہد کو قانون شہادت کے تحت ٹھوس شواہد تسلیم کیا جائے۔

اس مجوزہ قانون کے تحت مشتبہ افراد کے ٹیلفون فون ٹیپ کرنے، ای میل کی نگرانی اور سی سی ٹی وی، آڈیو، وڈیو، ایس ایم ایس، فوٹو وغیرہ یاکسی بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شواہد اکٹھے کرنے کی ذمہ داری یا اجازت آئی ایس آئی، آئی بی، پولیس، ملٹری انٹیلی جنس، نیول اور ایئر فورس انٹیلی جنس کو ہوگی۔

کسی مشتبہ شخص کے خلاف کارروائی کا فیصلہ مندرجہ بالا چھ ایجنسیوں کے سربراہان کریں گے اور گریڈ بیس یا اس کے مساوری عہدے والے افسر کے ذریعے ہائی کورٹ کے جج سے تحریری درخواست کے ذریعے نگرانی یا ٹیپ کرنے کے لیے وارنٹ حاصل کرنے کے پابند ہوں گے۔ لیکن جج کو درخواست دینے سے پہلے اس طرح کا وارنٹ حاصل کرنے کے لیے متعلقہ ادارے کے سربراہ کو وزیر داخلہ سے اجازت لینا ہوگی۔

اگر کوئی جج وارنٹ جاری نہ کرے تو کسی ایجنسی کا سربراہ متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے ثبوت پیش کرے گا اور دو رکنی بینچ بنانے کی درخواست کرے گا جو چیمبر میں سماعت کے بعد فیصلہ کرے گی۔

فون ٹیپ کرنے یا نگرانی کے لیے وارنٹ کی مدت ساٹھ روز ہوگی۔ اگر جج مناسب مواد دیکھنے کے بعد ضروری سمجھیں تو وارنٹ دوبارہ ساٹھ روز کے لیے جاری کرسکتا ہے۔ فون، ای میل او دیگر خدمات فراہم کرنے والے ادارے متعلقہ چھ ایجنسیوں کے علاوہ کسی کو کوئی مواد فراہم نہیں کریں گے۔

انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے شواد اکٹھے کرنے کے دوران کسی بھی ادارے کا کوئی بھی شخص معلومات افشاں نہیں کرے گا اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو پانچ برس قید اور دس لاکھ تک جرمانہ ہوسکےگا۔

جاسوسی یا کسی کی نگرانی کے لیے ایجنسیوں کے کام کی نگرانی کے لیے دفاع، داخلہ اور قانون کے وزراء پر مشتمل کمیٹی ہوگی جو کم از کم چھ ماہ میں ان کے کام کا جائزہ لےگی۔

وارنٹ جاری کرنے والے جج کے خلاف متاثر فریق متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رجوع کرسکتے ہیں اور وہ شکایت ملنے کے تیس روز کے اندر دو رکنی بینچ بنانے کے پابند ہوں گے۔

اس قانون کے تحت اکٹھے کردہ شواہد اس قانون کے علاوہ کسی مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوں گے اور خلاف ورزی کرنے والے کو پانچ برس قید اور دس لاکھ تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

غیرقانونی طور پر فون ٹیپ کرنے والے اہلکار کو تین برس قید اور جرمانہ کیا جاسکے گا۔ اس قانون کا اطلاق پانچ قواعد میں وضح کردہ جرائم پر ہی ہوگا، جس میں نجی آرمی کے خاتمے کا قانون، اینٹی نیشنل ایکٹوٹی ایکٹ، انسداد دہشت گردی ایکٹ، نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیکورٹی حکام کے ہاتھوں آئے روز لوگ اٹھائے جاتے ہیں، اس قانون پر عملدرآمد کرنا حکومت اور عدلیہ کے لیے بہت بڑا چیلینج ہوگا۔ جبکہ انسانی حقوق کے بعض کارکن کہتے ہیں کہ حکومت کا یہ دعویٰ اپنی جگہ کہ قانون کے غلط استعمال پر سزا ہوگی لیکن پھر بھی اس کے غلط استعمال کے خدشات ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔