لکی مروت: فوجی یونٹ پر حملہ، ’تیرہ سکیورٹی اہلکاروں سمیت 35 ہلاک‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 فروری 2013 ,‭ 08:09 GMT 13:09 PST

فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے لکی مروت میں رہائشی علاقے میں قائم عارضی فوجی چھاؤنی پر شدت پسندوں کے حملے میں تیرہ سکیورٹی اہلکار، دس شہری اور بارہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق پچیس سے تیس شدت پسندوں نے سرائے نورنگ کے علاقے میں سنیچر کی صبح ساڑھے تین بجے کے قریب محکمۂ انہار کی رہائشی کالونی میں قیام پذیر پاکستانی فوج کی یونٹ کو نشانہ بنایا۔

لکی مروت کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عارف خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند جدید اسلحے اور دستی بموں سے لیس تھے اور حملہ آوروں اور سکیورٹی اہلکاروں مابین فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا۔

ڈی ایس پی عارف خان کا کہنا ہے کہ فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور کسی کو اس علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

عسکری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس حملے کے دوران ہلاک ہونے والے تیرہ سکیورٹی اہلکاروں میں نو فوجی اور فرنٹیئر کور کے چار اہلکار شامل ہیں جبکہ آٹھ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں پشاور اور بنوں کے فوجی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

عسکری ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں بارہ شدت پسندوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے جن میں سے چار کی لاشیں سکیورٹی اہلکاروں کے قبضے میں ہیں اور ان میں سے دو نے خودکش جیکٹیں بھی پہن رکھی تھیں۔

ذرائع کے مطابق حملے کے دوران دہشتگردوں نے ایک مکان میں داخل ہو کر وہاں موجود دس عام شہریوں کو بھی ہلاک کر دیا جن میں چار مرد، تین عورتیں اور تین بچے تھے۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ اس حملے میں ان کے چار خودکش حملہ آوروں نے حصہ لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں ان کے دو کمانڈروں کی ڈرون حملوں میں ہلاکت کا بدلہ ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے سال کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے لکی مروت کے اباخیل اور تاجہ زئی دیہات میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے تھے جن میں مقامی لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ کسی قسم کا کوئی قومی لشکر یا امن کمیٹی کی طرح کی تنظیم نہ تشکیل دیں اور نہ ہی ایسے کسی گروپ کا حصہ بنیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔