ناروے کی پارلیمان نے ملالہ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کر دیا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 فروری 2013 ,‭ 06:53 GMT 11:53 PST

ملالہ یوسفزئی کے والد کا مینگورہ میں اپنا سکول ہے جہاں ان کی اپنی بیٹی بھی زیر تعلیم تھی

پاکستان میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی پندرہ سالہ طالبہ ملالہ یوسفزئی کو ناروے کی پارلیمان نے 2013 کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کر دیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اے پی پی کے مطابق ناروے کی پارلیمان کے حزبِ اقتدار کے ارکان نے ملالہ یوسفزئی کا نام نوبیل امن انعام کے لیے نارویجن نوبیل امن کمیٹی کو نامزد کر دیا ہے۔

لیبر پارٹی کی ویب سائٹ پر ملالہ کے بارے میں لکھا تھا کہ’وہ ایک پاکستانی طالبہ اور بلاگر تھیں جنہیں اکتوبر میں طالبان نے ان پر تنقید کی وجہ سے سر میں گولی ماری۔ملالہ بچوں بلخصوص لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے کام کر رہی تھیں‘۔

ناروے کی پارلیمان کے ارکان نے تجویز دی کہ ملالہ کو لڑکیوں کی تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کرنے پر2013 کا نوبیل امن انعام دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا عزم طالبان کو اتنا خطرناک لگا کہ انہوں نے انہیں ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا۔

ارکانِ پارلیمان نے کہا کہ ملالہ کی کہانی نے ’پوری دینا کو متاثر کیا۔‘

اے پی پی کے مطابق چوں کہ نوبل امن انعام کی کمیٹی کا انتخاب ناروے کی پارلیمان کرتی ہے تو ارکانِ پارلیمان کی طرف سے ملالہ کا نوبل انعام کے لیے نامزدگی ایک اہم قدم ہے جو کمیٹی کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر ڈیو روسر نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ملالہ کی کرینئیل سرجری جلد کی جائے گی

واضح رہے کہ اس سے قبل دسمبر 2012 میں فرانس کی پارلیمان کے ڈیڑھ سو اراکین نے اس یاداشت پر دستخط کیے تھے جس میں ملالہ یوسفزئی کو سنہ دو ہزار تیرہ کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

پاکستان نے بھی ملالہ یوسفزئی کو ملک کے قومی امن کے اعزاز سے نوازا تھا اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے دسمبر 2012 میں ملالہ یوسفزئی کو ’دخترِ پاکستان‘ کا خطاب دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی تھی۔

دسمبر دو ہزار بارہ میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پیرس میں پاکستان اور یونیسکو کے زیرِ اہتمام ہونے والی کانفرنس میں دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے’ملالہ فنڈ‘ قائم کرنے کا اعلان کیاگیا بھی کیا گیا تھا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پیرس میں یونیسکو کے دفاتر میں ہونے والی کانفرنس میں ملالہ فنڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملالہ ترقی پسند پاکستان کی علامت ہے۔

یاد رہے کہ ملالہ یوسفزئی کو تمام بچوں کے لیے تعلیم کے حق کے لیے آواز بلند کرنے اور ان کے حوصلے کی وجہ سے آئرلینڈ کا 2012 کا بین الاقوامی ٹپریری ایوارڈ برائے امن بھی دیا گیا تھا۔

اس سے قبل حکومتِ پاکستان نے ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی کو برمنگھم میں پاکستانی قونصلیٹ میں تعلیم کا اتاشی مقرر کیا تھا۔

ملالہ یوسفزئی کے والد کا مینگورہ میں اپنا سکول ہے جہاں ان کی اپنی بیٹی بھی زیر تعلیم تھی۔

ملالہ یوسفزئی نو اکتوبر کو طالبان کے ایک حملے میں شدید زخمی ہوگئی تھیں۔ گولی ان کے سر میں لگی لیکن ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ گولی ان کی کھوپڑی کو چھو کرگزر گئی تھی۔

ملالہ یوسفزئی آٹھ دسمبر سے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں زیر علاج رہیں۔

برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر ڈیو روسر نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ملالہ کی کرینئیل سرجری جلد کی جائے گی۔

ملالہ یوسفزئی پرحملے کے بعد طالبان کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس حملے کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔