دو نہیں ایک صوبہ بنایا جائے: کمیشن کی تجویز

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 فروری 2013 ,‭ 18:27 GMT 23:27 PST

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کو تقسیم کرنے اور نئے صوبے بنانے کے بارے میں کمیشن کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہے، جس میں کمیشن نے تجویز دی ہے کہ دو صوبے بنانے کی ضرورت نہیں ہے صرف ’بہاولپور جنوبی پنجاب‘ کے نام سے ایک صوبہ بنایا جائے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کی سربراہی میں قائم اس پارلیمانی کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا کہ یہ متفقہ سفارشات ہیں لیکن متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، جمیعت علماء اسلام (ف) اور مسلم لیگ (ق) کے اراکین نے اپنی تجاویز پر مبنی اضافی نوٹ بھی لکھے ہیں۔

کمیشن نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ قانون کے مطابق پارلیمان کے دونوں ایوان اگر بہاولپور جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کے قیام کے لیے آئینی ترمیمی بل منظور بھی کرلیں تو صدر اس وقت تک دستخط نہیں کرسکتے جب تک پنجاب اسمبلی دو تہائی سے اس کی منظوری نہ دے۔

بیالیس صفحات پر مشتمل سفارشات میں کہا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کی تین ڈویژنوں بہاولپور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے تمام گیارہ اضلاع کے علاوہ میانوالی اور بھکر کے اضلاع پر مشتمل ’بہاولپور جنوبی پنجاب‘ کے نام سے نیا صوبہ بنایا جائے اور اس کا صدر مقام بہاولپور ہوگا۔ جنوبی پنجاب کی تین ڈویژن، میانوالی اور بھکر کے اضلاع کی آبادی پنجاب کی ایک تہائی اور رقبے کے اعتبار سے نصف حصہ بنتا ہے۔

پائیدار معاشی خوشحالی کے لیے

کمیشن کے مطابق نئے صوبے کی پائیدار معاشی خوشحالی کے لیے لازم ہے کہ میانوالی اور بھکر کو اس میں شامل کیا جائے کیونکہ نہری پانی اور دیگر وسائل کے لیے یہ ضروری ہے۔ پنجاب کی چوراسی فیصد کپاس کی پیداوار ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن سے ہوتی ہے۔ کپاس کی کل ملکی پیداوار کا ستر فیصد پنجاب سے ہے اور اس اعتبار سے کل ملکی پیداوار میں جنوبی پنجاب کی تین ڈویزن کا حصہ انسٹھ فیصد بنتا ہے۔

جنوبی پنجاب کی تینوں ڈویژنز سے پنجاب کی کل گندم کی پیداوار کا اکتالیس فیصد اور چھتیس فیصد چینی پیدا ہوتی ہے۔ پچاسی فیصد جننگ فیکٹریز، چالیس فیصد فلور ملز، تیس فیصد شوگر ملز اور پچیس فیصد کھاد پیدا کرنے والے کارخانے جنوبی پنجاب کی تین ڈویژنز میں قائم ہیں۔

کمیشن کے مطابق نئے صوبے کی پائیدار معاشی خوشحالی کے لیے لازم ہے کہ میانوالی اور بھکر کو اس میں شامل کیا جائے کیونکہ نہری پانی اور دیگر وسائل کے لیے یہ ضروری ہے۔ پنجاب کی چوراسی فیصد کپاس کی پیداوار ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن سے ہوتی ہے۔ کپاس کی کل ملکی پیداوار کا ستر فیصد پنجاب سے ہے اور اس اعتبار سے کل ملکی پیداوار میں جنوبی پنجاب کی تین ڈویژنوں کا حصہ انسٹھ فیصد بنتا ہے۔

جنوبی پنجاب کی تینوں ڈویژنوں سے پنجاب کی کل گندم کی پیداوار کا اکتالیس فیصد اور چھتیس فیصد چینی پیدا ہوتی ہے۔ پچاسی فیصد جننگ فیکٹریز، چالیس فیصد فلور ملز، تیس فیصد شوگر ملز اور پچیس فیصد کھاد پیدا کرنے والے کارخانے جنوبی پنجاب کی تین ڈویژنز میں قائم ہیں۔

کمیشن نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی نے بہاولپور صوبے کو بحال کرنے اور جنوبی پنجاب کے نام سے نیا صوبہ بنانے کی دو قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی ہیں۔ لیکن کمیشن نے چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ بہاولپور کبھی بھی صوبہ نہیں رہا۔ بلکہ یہ ایک ریاست تھی اور ون یونٹ کے بعد اُسے پنجاب میں ضم کیا گیا تھا۔

کمیشن نے کہا ہے کہ بہاولپور کی طرح صوبہ سندھ کی خیرپور اور خیبرپختونخوا کی سوات بھی ریاستیں تھیں جو پاکستان میں ضم ہوئیں۔ اگر بہاولپور کی ریاست والی حیثیت بحال کی تو دوسری ریاستیں بھی ایسا مطالبہ کرسکتی ہیں اس لیے صرف ایک صوبہ بنایا جائے۔

پنجاب میں وسائل کی تقسیم

کمیشن نے کہا ہے کہ مختلف صوبے زونز کے حساب سے ملازمتیں اور وسائل کی تقسیم کرتے ہیں۔ لیکن پنجاب واحد صوبہ ہے جس میں اس پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس، ڈی ایم جی اور او ایم جی کے سروس گروپس میں گجرانوالا، لاہور اور راولپنڈی کی تین ڈویژنز کے دس سو چھیاسی افسران ہیں جبکہ جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنز ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان سے تینوں سروس گروپس میں ایک سو ستاون افسر ہیں۔ کمیشن کے مطابق ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کی فراہمی میں بھی جنوبی پنجاب بہت پیچھے ہے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ مختلف صوبے زونز کے حساب سے ملازمتیں اور وسائل کی تقسیم کرتے ہیں۔ لیکن پنجاب واحد صوبہ ہے جس میں اس پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس، ڈی ایم جی اور او ایم جی کے سروس گروپس میں گجرانوالا، لاہور اور راولپنڈی کی تین ڈویژنز کے دس سو چھیاسی افسران ہیں جبکہ جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنز ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان سے تینوں سروس گروپس میں ایک سو ستاون افسر ہیں۔ کمیشن کے مطابق ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کی فراہمی میں بھی جنوبی پنجاب بہت پیچھے ہے۔

کمیشن کے مطابق تینوں ڈویژنز کی آبادی پنجاب کی آبادی کا تیس فیصد ہے اور ملازمتوں میں کوٹہ بھی اتنا ہی بنتا ہے لیکن انہیں بارہ سے پندرہ فیصد حصہ دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انیس سو ستر جنوبی پنجاب کی محرومیاں شروع ہوئیں جو آج تک جاری ہیں۔ انیس ستر میں صوبے کی ترقی کی فہرست میں ملتان چوتھے اور رحیم یار خان چھٹے نمبر پر تھے اور آج وہ ترتیب وار تیرہویں اور سولہویں نمبر پر ہیں۔

کمیشن نے بتایا ہے کہ انہوں نے متعدد اراکین پارلیمان، سول سوسائٹی، صحافیوں اور دانشوروں سے ملاقاتوں کے بعد چودہ اجلاس کیے اور اپنی سفارشات مرتب کی ہیں۔

تین مئی سنہ دو ہزار بارہ کو قومی اسمبلی نے جنوبی پنجاب صوبے کی متفقہ قرارداد منظور کی اور نو مئی کو پنجاب اسمبلی سے دو متفق قراردادیں منظور ہوئیں۔ سولہ اگست کو سپیکر قومی اسمبلی نے صدر کے کہنے پر بارہ رکنی کمیشن بنایا جس میں مسلم لیگ (ن) کے دو اراکین بھی شامل تھے۔ جبکہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر سے کہا گیا کہ وہ دو اراکین نامزد کریں۔ لیکن کمیشن کی کارروائی میں مسلم لیگ (ن) کے دو ارکان کبھی شریک ہوئے اور نہ پنجاب اسمبلی کے ارکان نامزد کیے گئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔