’مسئلہ خوراک کی دستیابی نہیں بلکہ رسائی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 فروری 2013 ,‭ 20:58 GMT 01:58 PST

پاکستان دنیا کے ان خوش نصیب ملکوں میں ہے جو اقتصادی مشکلات کے باوجود خوراک کی ضروریات میں خودکفیل ہے مگر دیگر عوامل نے عوام کی بڑی تعداد کو بھوک مٹانے کے لیے وسائل سے محروم کر رکھا ہے۔

نیشنل نیوٹریشن سروے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں تقریباً نصف گھرانے مناسب خوراک تک رسائی سے محروم ہیں۔

آخری جامع سروے دو ہزارگیارہ میں کیا گیا تھا جس میں بتایا گیا ہے کہ افراط زر، گرتی ہوئی آمدنی، قدرتی آفات اور ملکی پیداوار میں جمود اٹھارہ کروڑ آبادی کے لیے فوڈ سکیورٹی فراہم کرنے میں حائل ہیں۔

اس کے علاوہ ملک میں سیاسی محاذ آرائی، ملک کے شمالی علاقوں اور جنوبی پنجاب میں شدت پسندی، بلوچستان میں بڑھتی ہوئی باغیانہ سرگرمیاں بھی صورتحال پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

عالمی ادارہ خوراک یعنی ورلڈ فوڈ پروگرام نے اپنی سال دو ہزار بارہ کی رپورٹ میں پاکستان میں اجناس مثلاً گندم، چاول وغیرہ کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام کو تو تسلیم کیا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں ان کی قیمتیں زیادہ ہیں اور ایسے میں جب حکومت نے اس سال گندم کی امدادی قیمت بڑھا دی ہے مزید اضافہ ناگزیر ہے۔

حالیہ ہفتوں میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اس رجحان کا آئینہ دار ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خوراک کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا اثر پاکستان میں بھی پڑے گا اورآنے والے دنوں میں مقامی قیمتیں مزید بھی بڑھ سکتی ہیں۔

مقامی میڈیا ایسی خبروں سے بھرا رہتا ہے جن میں بتایا جاتا ہے کے غربت سے تنگ شہری کس طرح اپنے بیوی، بچوں سمیت خودکشی کر رہے ہیں یا غریب اپنے بچًے فروخت کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ تو اپنے بچوں کو بھوک سے بچانے کے لیے ایدھی جیسے اداروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔

نوے سے سو فیصد اضافہ

سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے چیف اکنامسٹ صائم علی کا کہنا ہے کے قیمتوں کے اشاریے کو دیکھیں تو یہ پتہ چلتا ہے کے گذشتہ پانچ سال میں اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں نوے تا سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف عام آدمی کی آمدنی میں اس مدت میں حکومت کے مطابق صرف ایک فیصد اضافہ رکارڈ کیا گیا۔

ایدھی ویلفیئر سینٹر کے انوار کاظمی کہتے ہیں غربت کے مارے لوگ اپنے بچوں کو بھوک سے بچانے کے لیے ہمارے سینٹر میں چھوڑ جاتے ہیں۔

دنیا میں بھوک مٹانے اور فوڈ سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے عالمی ادارہ خوراک پیداوار بڑھانے پر زور دیتا ہے مگر پاکستان کے لیے اس کا کہنا ہے کہ یہاں مسئلہ خوراک کی دستیابی نہیں بلکہ خوراک تک رسائی کا ہے کیونکہ ملک گندم، چاول اور دیگر اجناس کی پیداوار میں خودکفیل ہے۔

سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے چیف اکنامسٹ صائم علی کا کہنا ہے کے قیمتوں کے اشاریے کو دیکھیں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ پانچ سال میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نوے تا سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف عام آدمی کی آمدنی میں اس مدت میں حکومت کے مطابق صرف ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

عالمی بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے صائم علی نے کہا ملک کی پچیس فیصد آبادی مطلوبہ مقدار میں کیلوریز سے محروم ہے، یعنی ناکافی کیلوریز پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے۔

فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے رپورٹ کہا گیا ہے کہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر عورتیں، بچے اور ضعیف العمر لوگ ہو رہے ہیں۔ بچوں کی غذائی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے ان کی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔ عمر کے لحاظ سے ان کا وزن اور قد نہیں بڑھ رہا جبکہ عورتیں بھی صحت کے سنگین مسائل کا شکار ہیں۔

حکومت کا موقف یہ رہا کے وہ ملک کے غریب ترین طبقے کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے نقد رقم سے امداد کر رہی ہے۔ پروگرام کے حامی اسے ضرورت مند کی براہ راست مدد قرار دیتے ہیں۔ مگر ناقدین کا کہنا ہے کے یہ مسلے کا حل نہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے ملک بھر میں پچپن لاکھ خاندانوں کی مدد کی جا رہی ہے جس پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔

حالت یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ زراعت سے وابستہ چھوٹا کاشتکار بھی اپنی غذائی ضروریات خرید کر پوری کرنے پر مجبور ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کے پاکستان موجودہ صورتحال میں موثر انتظامی اقدام کے ذریعہ خوراک کی دستیابی اورخوراک تک عوام کی رسائی بہتر اور عوام کو غذائی تحفًظ ممکن بنا سکتا ہے۔

صائم علی کہتے ہیں ملک میں مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے پیش نظر حکومت کو سبسڈی دینی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت واپڈا، ریلوے اور پی آئی اے جیسے اداروں کو پانچ سو ارب روپے امداد دے سکتی ہے تو عوام کو بھوک سے بچانے کے لیے بھی یہ کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کا موقف یہ رہا ہے کہ وہ ملک کے غریب ترین طبقے کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے نقد رقم سے امداد کر رہی ہے۔اس پروگرام کے ذریعے ملک بھر میں پچپن لاکھ خاندانوں کی مدد کی جا رہی ہے جس پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔

پروگرام کے حامی اسے ضرورت مند کی براہ راست مدد قرار دیتے ہیں مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلے کا حل نہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے اور ہر پاکستانی کی خوراک تک پہنچ یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہیے ورنہ غریب اور غریب ترین طبقات کی زندگی کی مشکلات برداشت سے باہر ہو جائیں گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔