نیب افسر کامران فیصل کی قبر کشائی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 فروری 2013 ,‭ 18:03 GMT 23:03 PST
کامران فیصل

قبرکشائی کے موقع کامران فیصل کے والد عبدالحمید بھی موجود تھے

کرائے کے بجلی گھروں میں بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسر کامران فیصل کی موت کی چھان بین کے لیے قبرکشائی کی گئی اور فورنزک ماہرین نے ان کے جسم کے نمونےحاصل کرکے ان کی دوبارہ تدفین کر دی ہے۔

کامران فیصل کے آبائی علاقے میاں چنوں میں ان کی قبر کشائی کرکے ان کی لاش کے مخلتف حصوں سے تین قسم کے نمونے حاصل کیے گئے۔

تین گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے والے اس تمام عمل کی نگرانی جوڈیشنل مجسٹریٹ نے کی۔ قبرکشائی کے موقع کامران فیصل کے والد عبدالحمید بھی موجود تھے۔

کامران فیصل اسلام آباد میں اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائےگئے تھے اور ان کی لاش پنکھے سے لٹکی ملی تھی۔ کامران فیصل کی موت کی تحقیقات کے لیے حکام کی طرف سے ان کی قبرکشائی کی درخواست دی گئی تھی۔

سینچر کی صبح پولیس اور کامران فیصل کے والد مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت نے کامران فیصل کے والد کی رضامندی کی بنا پر ان کے بیٹے کی قبرکشائی کی اجازت دی۔

مقامی صحافی میاں احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ قبرکشائی کے موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں پر پہنچ گئی تاہم پولیس کی نفری نے انہیں ایک خاص مقام سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔

مقامی صحافی کے مطابق فرانزک ٹیم کے ساتھ میڈیا کو بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

کامران فیصل کی دوبارہ تدفین کے بعد ان کی موت کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسر مبارک علی نے میڈیا کو بتایا کہ کامران فیصل کی لاش سے نمونے لینے کا کام مکمل ہوگیا ہے ۔

تفتیشی افسر نے تبایا کہ فرانزک ماہرین سے لاش سے حاصل کیے گئے نمونے لیے جائیں اور انہیں جانچ کے لیے بیرون ملک بھیجا جائے گا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

تفتیشی افسر نے یہ نہیں بتایا کہ نمونوں کی جانچ میں کتنا وقت لگے گا اور اس کی رپورٹ کب آئے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔