سندھی ادیب سراج الحق میمن انتقال کر گئے

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 فروری 2013 ,‭ 11:47 GMT 16:47 PST

سندھ کے نامور ادیب اور دانشور سراج الحق میمن جو کافی عرصے سے پیٹ کے کینسر میں مبتلا تھے اسی برس کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔ سراج الحق نے اس مرض کا بھارت سے علاج بھی کروایا تھا لیکن گزشتہ رات دل کا شدید دورہ ان کی ہلاکت کا باعث بنا۔

سراج میمن نے 1933 میں حیدرآباد کے قریب ٹنڈو جام میں ایک ادبی اور علمی گھرانے میں جنم لیا، ان کے والد محمد یعقوب استاد اور مترجم تھے، انہوں نے دیوانِ حافظ کا سندھی میں ترجمہ کیا تھا۔

نوجوان سراج نے اپنے ادبی سفر کی ابتدا سندھ کے نامور ناول نویس اور صحافی محمد عثمان ڈیپلائی کے پاس ملازمت سے کی، وہ عثمان ڈیپلائی کے پاس مترجم کے طور پر کام کرتے تھے۔

1952 میں وہ سندھ ادبی بورڈ میں اسسٹنٹ سیکریٹری کے عہدے پر فائز ہوئے، یہ ادارہ سندھ کے لوک ادب، تاریخ اور لسانیات پر کتابوں کی اشاعت کا ذمہ دار تھا۔

سراج میمن کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’ اے درد چلے آؤ 1969 میں شائع ہوا، جس میں شامل کہانی ’بونی‘ کافی مقبول ہوئی۔ اس کہانی میں انہوں نے پولیس میں رشوت کے کلچر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سندھی زبان پر ان کی کتاب ’سندھی بولی کا نظریہ‘ سندھی لسانیات میں ایک اہم اضافہ تصور کیا جاتا ہے، اس کتاب میں انہوں نے یہ نظریہ دیا ہے کہ سندھی خالصتاً اسی خطے کی زبان ہے، اس پر کسی اور زبان کا اثر نہیں ہے۔

سراج میمن کا 1976 میں سندھ پر ارغونوں اور ترخانوں کے حملوں کے پس منظر میں ایک ناول شائع ہوا، اس کے علاوہ انہوں نے تین اور ناول بھی لکھے۔

سراج میمن کے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سےبھی مراسم تھے۔ ان کے کہنے پر انہوں نے سندھی اخبار ہلال پاکستان کے مدیر کے بھی فرائض سر انجام دیے جہاں انہوں نے سندھی صحافت میں کالم نویسی کا بنیاد ڈالی۔

انہوں نے بعد میں محکمۂ انکم ٹیکس میں ملازمت اختیار کی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سندھی دانشوروں، بیوروکریسی اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا تھا۔

سراج میمن ان دنوں قانون سے وابستہ تھے، ان کا شمار کراچی کے بہترین انکم ٹیکس وکلاء میں کیا جاتا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔