بجلی پیدا کرنے کے منصوبے تاخیر کے شکار

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 فروری 2013 ,‭ 17:45 GMT 22:45 PST
وزیر اعظم تھر کول منصوبے کے دورے پر

وزیر اعظم تھر کول منصوبے کے دورے پر (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر جامشورو میں کوئلے پر چلنے والا چھ سو میگا واٹ کا بجلی گھر لگانے کے معاملے پر ایشیائی ترقیاتی بینک اور سندھ حکومت میں اختلافات کی وجہ سےمنصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

نوے کروڑ ڈالر کی لاگت سے چرسا میں مکمل ہونے والا یہ منصوبہ گزشتہ برس شروع ہونا تھا لیکن ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور سندھ حکومت میں اختلاف رائے کی وجہ سے کام شروع نہیں ہوسکا۔

اس بات کا انکشاف مشترکہ مفادات کی کونسل کے تئیس جنوری کو ہونے والے اجلاس کے اب جاری کردہ ’منٹس‘ میں کیا گیا ہے، جس کی کاپی بی بی سی کے پاس ہے۔

سرکاری دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ اس منصوبے میں سو فیصد کوئلہ تھر سے حاصل ہونے والا استعمال کریں گے۔ لیکن اے ڈی بی کا موقف ہے کہ ان کے پاس جو قرض دینے کی رقم ہے وہ درآمد شدہ کوئلے پر چلنے والے بجلی گھر کے لیے ہے۔

بینک نے یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ تھر کے کوئلے کا معیار اچھا نہیں ہے اور اس سے ماحولیاتی آلودگی پھیلے گی۔

"پاکستان میں ایک طرف بجلی کا بحران ہے ور دوسری طرف فوری بجلی پیدا کرنے کے وسائل ہوتے ہوئے بھی بد انتظامی کی وجہ سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی"

فریقین میں اختلافات دور کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے مداخلت کی جس کے بعد طے پایا ہے کہ جامشورو بجلی گھر میں اب پچاس فیصد درآمدی اور پچاس فیصد تھر کا کوئلہ استعمال ہوگا۔ مشترکہ مفادات کی کونسل نے وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کی ہے کہ ایک ہفتے کے اندر بینک سے قرض لینے کا معاہدہ کریں۔ جبکہ وزارت خزانہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ’ساورن گارنٹی‘ فراہم کرے۔

مشترکہ مفادات کی کونسل جو پاکستان میں اعلیٰ اختیارات کا آئینی ادارہ ہے اس کی ہدایات کو ایک ہفتہ ہوگیا ہے لیکن تاحال معاہدہ نہیں ہوسکا۔

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ تھرپارکر سے مٹیاری تک ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے لیے سروے چل رہا ہے اور جاپان کے امدادی ادارے جائکا نے اس کے لیے فنڈز دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

"دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ تھرپارکر سے مٹیاری تک ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے لیے سروے چل رہا ہے اور جاپان کے امدادی ادارے جائکا نے اس کے لیے فنڈز دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے"

اجلاس میں پنجاب کے چیف سیکریٹری نے کہا کہ گنے کے بگاس سے بجلی بنائی جاسکتی ہے اور پنجاب میں دو ہزار میگا واٹ بجلی اس طریقے سے بنانے کی گنجائش موجود ہے۔

لیکن ان کے بقول ’نیپرا‘ نے تاحال بگاس، سولر اور ونڈ سے پیدا ہونے والی بجلی کے نرخ نہیں طے کیے اور اس کی وجہ سے سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے۔ جس پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ’نیپرا‘ فوری طور پر نرخ طے کرے۔

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ صوبے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اجلاس میں شکایت کی کہ توانائی کانفرنس میں جو فیصلے ہوئے اس پر عمل ہونے سے سات سو میگا واٹ بجلی صرف ہفتے میں دو چھٹیاں کرنے سے بچائی جاسکتی ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چین کو تین کروڑ ’ایل ای ڈی‘ اور ’سی ایف ایل‘ ٹیکنالوجی والے تین کروڑ بلب بنانے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے اور آئندہ ماہ ایک کروڑ بلب پہنچائے جائیں گے۔

مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس کے ’منٹس‘ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہفتے میں دو چھٹیوں کےفیصلے پر عمل میں رکاوٹ کون یا کیا بنا ہوا ہے۔ لیکن حکومت کہتی رہی ہے کہ اس پر پنجاب حکومت نے عمل نہیں کیا۔

اجلاس میں پنجاب کے چیف سیکریٹری نے کہا کہ متعلقہ قوانین میں ترمیم میں تاخیر ہو رہی ہے اور بجلی چوری پر سزائیں دینے کا قانون جلد منظور کیا جائے تاکہ اس پر عمل کرسکیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔