’امریکی ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف وزری ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 23:22 GMT 04:22 PST

امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف وزری ہیں اور اگر امریکہ نے ڈرون حملے بند نہ کیے تو پاکستان امریکہ سے دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں میں تعاون بند کرسکتا ہے۔

انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ پاکستانی سرزمین پر امریکی حملوں کو پاکستان کی خاموش تائيد حاصل ہے۔

شیری رحمان نے یہ باتیں منگل کی صبح امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ان کی جانب سے صحافیوں کو دیے گئے ناشتے پر کی جسے امریکی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا ہے۔

امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان نے امریکی صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ ڈرون حملے امریکہ اور پاکستان تعلقات کے بیچ ایک سرخ لکیر کے مترداف یعنی بڑی رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے صحافیوں کے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا کہ آیا پاکستان امریکہ سے حاصل کیے گئے ایف سولہ طیاروں کی مدد سے امریکی ڈرون طیاروں کوگراسکتا ہے۔

"پاکستان امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون جاری رکھے گا کیونکہ امریکہ اگلے برس افغانستان سے اپنی افواج نکال رہا ہے تاہم اس تعاون میں ڈرون حملے سرخ لکیر ہیں۔"

امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان

انہوں نے کہا کہ وہ اس سوال پر کچھ نہیں بول سکتیں تاہم پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے ایک جانب سے آنکھ کے اشارے اور دوسری جانب سے اثبات میں سر ہلانے والی بات نہیں۔

انہوں نے اس سوال کہ کیا امریکہ کو پاکستان کی جانب سے اس کی سرزمین پر ڈرون حملے کرنے کی خاموش تائيد حاصل ہے کے جواب میں کہا ’میں آپ کو یقین دلا سکتی ہوں کہ پاکستان پر ڈرون حملوں میں کوئی خاموش گٹھ جوڑ شامل نہیں‘۔

شیری رحمان نے امریکی صحافیوں کے اس سوال کہ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں ڈرون حملے دہشت گردی کی جنگ میں کار آمد ثابت ہوئے ہیں کے جواب میں کہا ’پاکستان امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون جاری رکھے گا کیونکہ امریکہ اگلے برس افغانستان سے اپنی افواج نکال رہا ہے تاہم اس تعاون میں ڈرون حملے سرخ لکیر ہیں‘۔

انہوں نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر دہشت گردی کی کارروائياں روکنے کی بارہ سالہ امریکی کوششوں کے بارے میں کہا کہ ہم نے یہ سبق سیکھا ہے کہ طاقت کا استعمال کار گر ثابت نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان سرحد پر مشکلات بڑھی ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان نے سرحد پار کارروائیوں کو موثر طور روکا ہے۔

"پاکستانی فوج نے پاکستانی قبائلی علاقوں کے چھیاسی فی صد پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جو سنہ دو ہزار نو میں سینتیس فی صد تھا۔"

شیری رحمان

شیری رحمان نے ڈرون حملے دہشت گردی کو روکنے میں کارگر ثابت ہونے کے سوال کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں سے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں رکاوٹیں حائل ہوئی ہیں۔

انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ پاکستان نے افغانستان میں طالبان کاروائيوں کی اجازت دے رکھی ہے۔

انہوں نے امریکی صحافیوں سے کہا ’پاکستانی فوج نے پاکستانی قبائلی علاقوں کے چھیاسی فی صد پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جو سنہ دو ہزار نو میں سینتیس فی صد تھا‘۔

شیری رحمان کے مطابق پاکستان نے افغان سرحد پر نقل و حمل کنٹرول کرنے کے لیے آٹھ سو سرحدی چوکیاں بنائي ہیں جبکہ افغانستان کے پاس اس کی سرحد پر نقل و حمل کنٹرول کرنے کو صرف ایک سو چوکیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے وہ سب کچھ کیا جو وہ کرسکتا تھا تاہم تمام سرحد کو بند کرنا ناممکن ہے۔

امریکہ میں پاکستان کی سفیر نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن قائم کرنے کی کو ششوں میں شریک ہے اور اس ضمن میں وہ افغانستان کی حکومت کی طرف سے اسے جو کہا جاتا ہے کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں پر پاکستانی حکومت اور فوج کے موقف میں کوئی تضاد نہیں اور پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھا ہے۔

امریکی تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکہ میں پاکستانی سفیر شیری رحمان کا بیان اس وقت آیا ہے جب آئندہ جمعرات کو امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی صدر اوباما کی جانب سے امریکی سی آئی اے کے نئے سربراہ کے طور پر جان او برینین کی نامزدگی پر توثیق کی سماعت کرنے جا رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔