’پیپلز پارٹی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایسوسی ایشن ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 14:21 GMT 19:21 PST

’آئندہ سے ایوان صدر میں پیپلز پارٹی کی کوئی سرگرمی نہیں ہوگی‘

پاکستان کی وفاقی حکومت کے وکیل وسیم سجاد نے لاہور ہائی کورٹ کے روبرو انکشاف کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک سیاسی ایسوسی ایشن ہے۔

انہوں نے یہ بات لاہور ہائی کورٹ میں صدر آصف علی زرداری کے بیک وقت دو عہدوں رکھنے کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواستوں کی سماعت کے دوران بتائی۔

بدھ کے روز وفاقی حکومت کے وکیل وسیم سجاد نے ہائی کورٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ صدر آصف علی زرداری کے پاس کوئی سیاسی عہدہ نہیں ہے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کے قانون کے تحت کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے۔

وسیم سجاد نے وضاحت کی کہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین ہے جس کے سربراہ مخدوم امین فہیم اور سیکرٹری جنرل راجہ پرویز اشرف ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق وفاقی حکومت کے وکیل نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا قانونی طور پر وجود نہیں ہے کیونکہ یہ ملکی قانون کے تحت رجسٹرڈ جماعت نہیں ہے اس لیے نہ تو وہ عام انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور نہ اس کا کوئی انتخابی نشان ہے۔

وسیم سجاد نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ آئندہ سے ایوان صدر میں پیپلز پارٹی کی کوئی سرگرمی نہیں ہوگی۔

لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی فل بنچ کے سربراہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال ہیں جبکہ دیگر ارکان میں جسٹس ناصر سعید شیخ ، جسٹس نجم الحسن شیخ ،جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔

"صدر آصف علی زرداری کے پاس کوئی سیاسی عہدہ نہیں ہے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کے قانون کے تحت کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا قانونی طور پر وجود نہیں ہے کیونکہ یہ ملکی قانون کے تحت ایک رجسٹرڈ جماعت نہیں اس لیے نہ تو وہ عام انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور نہ اس کا کوئی انتخابی نشان ہے۔"

وسیم سجاد

یہ درخواستیں اے کے ڈوگر اور اظہر صدیق ایڈووکیٹس کی طرف سے دائر کی گئی ہیں جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نے صدر آصف علی زرداری کو سیاسی جماعت کا عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا لیکن عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہورہا اس لیے صدر آصف علی زرداری کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

وکیل حکومت کے وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری کی وزراء سے ملاقات کو سیاسی سرگرمیاں قرار نہیں دیا جا سکتا ہے کیونکہ وزراء مختلف معاملات پر صدر پاکستان سے ملاقات کرسکتے ہیں۔

بنچ کے رکن جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ جب صدر پاکستان جلسے میں ایک جماعت کی حمایت اور دوسری کی مخالفت کریں گے تو کیا اسے غیرجانبداری قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس پر وسیم سجاد نے کہا کہ جلسہ کوئی شخص بھی کرسکتا ہے اس کے لیے سیاسی ہونا ضروری نہیں ہے۔

دوسری طرف درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے وفاقی حکومت کے بیان کو رد کرتے ہوئے اسے دکھاوا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ ماہ سے درخواستوں پر سماعت ہو رہی ہے اور اس دوران ایوانِ صدر میں سیاسی سرگرمیاں جاری رہی ہیں اور اب وفاق کے وکیل عدالت کو الجھا رہے ہیں۔

ہائی کورٹ کے فل بنچ نے وفاق کے وکیل کے تحریری بیان کو ایک اچھی پیش رفت قرار دیا تاہم انہیں ہدایت کی کہ وہ اس نکتے پر دلائل دیں کہ صدر پاکستان جس سیاسی تنظیم یا ایسوسی ایشن کے شریک سربراہ ہیں اس کی سرگرمیوں میں حصہ لینا عدالتی فیصلے کے منافی ہے یا نہیں۔

صدر پاکستان کے بیک وقت دو عہدے رکھنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر اب مزید کارروائی پندرہ فروری کو ہوگی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔