’امن کی خاطر خون معاف کرنے کو تیار ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 16:22 GMT 21:22 PST

بے گناہ انسانوں کا قتل عام بند کرنا پڑے گا: غلام احمد بلور

وفاقی وزیر برائے ریلوے اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ وہ طالبان کے ساتھ امن کے لیے سارے خون معاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مختلف واقعات میں اب تک اے این پی کے ساڑھے چھ سو کارکن مارے گئے ہیں جبکہ ان کے بھائی بشیر احمد بلور سے قبل ایم پی اے شمشیر خان اور اورنگزیب خان بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں ملک کے اندر قیامِ امن کے لیے ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی طالبان نے کی۔

انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ طالبان ہتھیار ڈال دیں لیکن انہیں بے گناہ انسانوں کا قتلِ عام بند کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں تو یہ غلط عمل ہے، میں کہتا ہوں کہ پختون مرتا ہے لیکن ہتھیار نہیں ڈالتا۔ البتہ وہ بے گناہ لوگوں کا قتلِ عام بند کریں تو ہم ان سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اے این پی طالبان کی جانب سےمشروط مذاکرات کی پیشکش کو کس نظر سے دیکھتی ہے، توحاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ ہم ایک عرصے سے طالبان سے کہتے چلے آ رہے تھے کہ انہوں نے جس طریقۂ کار کو اپنایا ہے اس سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

’لیکن اس وقت وہ ہماری بات نہیں مان رہے تھے اور جب میرے بھائی بشیر احمد بلور کا قتل ہوا تو پورے ملک میں اس کا سخت ردعمل سامنے آیا۔ اور پوری قوم طالبان کے خلاف متحد ہوگئی تھی۔‘

"ہم ایک عرصے سے طالبان سے کہتے چلے آ رہے تھے کہ انہوں نے جس طریقۂ کار کو اپنایا ہے اس سے مسائل حل نہیں ہوتے۔"

غلام احمد بلور

انہوں نے کہا کہ بشیر احمد بلور کی ہلاکت کے تیسرے دن ہی طالبان نے مذاکرات کی پیش کش کی۔ کیونکہ ہم توشروع دن سے ہی نہ صرف مذاکرات کے حق میں تھے بلکہ ہمیشہ عدم تشدد کی پالیسی پریقین رکھتے ہیں۔ ’ہم نے طالبان کو بتایا کہ جومسائل بات چیت سے حل ہوسکتے ان کو گولی سے حل کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔‘

عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے لیے کل جماعتی کانفرنس بلانے کے بارے میں وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ تمام پارٹیوں سے رابطہ مکمل ہوچکا ہے اور تقریباً سب پارٹیاں ملک میں قیام امن کےلیے تجاویز دینے پرمتحد ہیں کیونکہ یہ صرف اے این پی کا مسئلہ نہیں بلکہ سب کا مسئلہ ہے۔

طالبان کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، جماعت اسلامی کے امیر منورحسن اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نوازشریف کو ضامن نامزد کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اے این پی کے مرکزی رہنما نے کہا کہ اگر ان تین رہنماؤں پر طالبان کو اعتماد ہے توانہیں کواعتراض نہیں ہے۔

جہاں تک مذاکرات کی کامیابی کے بعد فوج ان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی تو ضمانت دینے کا فیصلہ حکومت کرےگی کیونکہ فوج حکومت کا ماتحت ادارہ ہے۔

ماضی میں ہونے والوں معاہدوں کی خلاف ورزی کے بارے میں ایک سوال کے جواب حاجی غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ بشیر احمد بلور نے صوفی محمد اور ملا فضل اللہ سے معاہدہ کیا تو دوسرے دن انہوں نے بونیر پر حملہ کر کے خود ہی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے، جس سے مسئلہ مزید خراب ہوا۔ حالانکہ اس وقت طالبان اور اے این پی کے درمیان ہونے والے معاہدے پر حکومت خوش تھی اور نہ ہی امریکہ راضی تھا، لیکن ہم نےزبردستی وہ معاہدہ حکومت سے منوایا۔

تاہم طالبان نے اگلے دن حملہ کرکے سب کچھ پر پانی پھیر دیا تھا۔

طالبان سے مذاکرات کی ناکامی کا آئندہ انتخابات پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ پہلے مذاکرات تو ہونے دو۔ انھیں یقین ہے کہ اگرنیک نیتی سے مذاکرات کیے جائیں توضرور کامیاب ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔