ملالہ یوسفزئی کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 فروری 2013 ,‭ 16:50 GMT 21:50 PST

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ملالہ ہسپتال کے او پی ڈی میں معائنہ جاری رکھے گی

برطانیہ میں زیرِ علاج سوات سے تعلق رکھنے پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو سرجری کے بعد ہسپتال سے خارج کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پندرہ سالہ ملالہ یوسفزئی گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستان کے ضلع سوات میں طالبان کے ایک حملے میں زخمی ہو گئی تھیں۔

ہسپتال انتظامیہ نے کہا ہے کہ ملالہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک عارضی گھر میں رہ رہی ہیں جبکہ وہ ہسپتال کے او پی ڈی میں معائنہ کے آیا کریں گی۔

اس سے پہلے ہسپتال انتظامیہ نے کہا تھا کہ گزشتہ سنیچر کو ملالہ کے دو آپریشن ہوئے تھے جن کے دوران ان کے سر میں ٹائٹینیئم دھات کی پلیٹ رکھی گئی تھی اور کان میں ایک الیکٹرانک آلہ نصب کیا گیا تھا۔

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ پانچ گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن کے بعد وہ ملالہ کی حالت سے بہت خوش تھے۔

اس آپریشن میں دس ڈاکٹروں کی ٹیم نے حصہ لیا تھا جس میں ملالہ کی کھوپڑی کے کچھ حصے کو دوبارہ سے بنایا گیا تھا اور ان کے کان کی بھی جراحی کی گئی تھی۔

"گولی ملالہ کے دماغ کو صرف چھو کر گزری اور ان کے سر سے ہو کر گردن کے راستے ان کے بائیں شانے میں جا گھسی تھی۔"

برطانوی ڈاکٹر

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گولی ملالہ کے دماغ کو صرف چھو کر گزری اور ان کے سر سے ہو کر گردن کے راستے ان کے بائیں شانے میں جا گھسی تھی۔

کوئین الزبتھ ہسپتال کی ترجمان نے کہا کہ ملالہ کی سرجری کرنے والی ٹیم ان کی حالت سے بہت خوش تھے ’دونوں آپریشن کامیاب رہے‘۔

ملالہ کو چار جنوری کو ہسپتال سے عارضی طور پر فارغ کر دیا گیا تھا اور وہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ برمنگھم میں رہتی ہیں۔

یاد رہے کہ ابتدائی علاج کے دوران پاکستانی ڈاکٹروں نے ان کے سر سے گولی نکالی تھی جس کے بعد انہیں علاج کے لیے برطانیہ بھیج دیا گیا تھا۔

ملالہ کو گذشتہ سال نو اکتوبر کو طالبان نے سوات کے شہر مینگورہ میں قریب سے گولی کا نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں ملالہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا تھا۔

پاکستان نے بھی ملالہ یوسفزئی کو ملک کے قومی امن کے اعزاز سے نوازا تھا اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے دسمبر 2012 میں ملالہ یوسفزئی کو ’دخترِ پاکستان‘ کا خطاب دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی تھی۔

دسمبر دو ہزار بارہ میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پیرس میں پاکستان اور یونیسکو کے زیرِ اہتمام ہونے والی کانفرنس میں دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے’ملالہ فنڈ‘ قائم کرنے کا اعلان کیاگیا بھی کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ملالہ یوسفزئی کو تمام بچوں کے لیے تعلیم کے حق کے لیے آواز بلند کرنے اور ان کے حوصلے کی وجہ سے آئرلینڈ کا 2012 کا بین الاقوامی ٹپریری ایوارڈ برائے امن بھی دیا گیا تھا۔

اس سے قبل حکومتِ پاکستان نے ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی کو برمنگھم میں پاکستانی قونصلیٹ میں تعلیم کا اتاشی مقرر کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔