’پاکستان قرضوں کی دلدل میں پھنس سکتا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 00:34 GMT 05:34 PST

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال دو ہزار بارہ کے لیے اپنی سالانہ رپورٹ میں ملک کے بڑھتے ہوئے قرضوں کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان قرض کے دلدل میں پھنس سکتا ہے۔

یہ صورت حال مالی انتظام چلانے میں حکومت اور مرکزی بینک دونوں کی کارکردگی کا آئینہ ہے۔

رپورٹ کا جائزہ لینے سے یہ بات چھپی نہیں رہتی کہ جہاں حکومت آمدنی بڑھانے اور اخراجات پر قابو پانے میں ناکام رہی وہیں سٹیٹ بینک زر کے پھیلاؤ پر قابو پانے اور مالیاتی نظم و ضبط قائم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتا ہے۔ حکومت نے نہ تو قرض لینے کے لیے بنائے گئے قانون کی پابندی کی اور نہ ہی سٹیٹ بینک نے حکومت کو روکنے کے لیے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کیں۔

اس دوران حکومت نے ملک کے بینکاری نظام سے بےتحاشہ قرضے لیے اور سال کی چوتھی سہ ماہی میں حکومت قرض لینے کی حد سے آگے بڑہ گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سنہ دو ہزار بارہ میں مقامی قرضوں میں ایک اعشاریہ چھ ٹریلین روپے کا غیرمعمولی اضافہ ہوا جوگذشتہ سال کے مقابلے میں تیئس فیصد زیادہ تھا۔ یوں ملک کے قرضے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے باسٹھ اعشاریہ چھ فیصد تک پہنچ گئے یعنی خطرے کی حد چھونے لگے۔

وفاقی سیکرٹری اکنامک افیئرز ڈویژن ڈاکٹر وقار مسعود کا کہنا ہے کہ ملک کے مجموعی (ملکی اور غیر ملکی) قرضوں کا حجم ایک سو تیس ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

گذشتہ کئی برسوں میں سب سے زیادہ قرضےحکومت ہی لیتی رہی ہے۔ نجی شعبے کا حصہ کم سے کم ہوتا گیا۔ نجی شعبے نے نہ تو صنعتوں کے لیے قرض لیا اور نہ ہی تجارت کے لیے۔

گورنر سٹیٹ بینک یٰسین انور کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار برسوں میں تجارتی بینکوں سے بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے قرضوں کی فراہمی اوسطاً ساٹھ فیصد کی شرح سے بڑھی مگر نجی شعبے کے لیے قرضوں کے اجرا میں یہ اضافہ محض چار فیصد رہا۔

" ٹیکس گذاروں کی تعداد محدود ہونے کی وجہ سے محصولات سے ہونے والی کم آمدنی، نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں اور توانائی کے شعبے کو دیا جانے والا بھاری زرتلافی حکومت کی جانب سے قرض لینے کی بڑی وجوہات ہیں۔ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام اور سیلاب متاثرین کو دیے گئے سمارٹ کارڈ کا بوجھ بھی قرضوں کو بڑھانے کی اہم وجہ ہے۔"

گورنر اسٹیٹ بینک یٰسین انور

سٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت مسلسل مالیاتی نظم و ضبط کے قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ اس قانون کے تحت حکومت پر لازم تھا کہ وہ سال دو ہزار آٹھ سے محصولات کے ذریعے فاضل آمدنی کا حصول یقینی بنائے مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔

حکومت پر یہ قانونی پابندی بھی ہے کہ مالی سال کی ہر سہ ماہی کے اختتام پر اس کا خالص قرضہ صفر ہونا چاہیے یعنی سہ ماہی کے دوران حکومت جو بھی قرضہ لے اسے سہ ماہی ختم ہونے پر واپس کرے مگر ایسا ہو نہیں رہا۔

حکومت قرضوں کو جی ڈی پی کے ساٹھ فیصد تک محدود رکھنے کی بھی پابند ہے مگر سال دو ہزار تیرہ میں حکومت یہ حد پہلے ہی پار کر چکی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ میں سرکاری قرضے کی تعریف پر بھی اختلاف ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک یٰسین انور کا کہنا ہے کہ ٹیکس گذاروں کی تعداد محدود ہونے کی وجہ سے محصولات سے ہونے والی کم آمدنی، نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں اور توانائی کے شعبے کو دیا جانے والا بھاری زرتلافی حکومت کی جانب سے قرض لینے کی بڑی وجوہات ہیں۔ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام اور سیلاب متاثرین کو دیے گئے سمارٹ کارڈ کا بوجھ بھی قرضوں کو بڑھانے کی اہم وجہ ہے۔

گذشتہ چار برس میں توانائی کے شعبے کو دیا جانے والا زر تلافی ایک ٹریلین روپے سے زیادہ ہے یعنی ملک کے ایک بڑے توانائی منصوبے دیا میر بھاشہ ڈیم کی لاگت سے بھی زیادہ جس سے ملک کو سستی بجلی حاصل ہو سکتی ہے۔

قرضے خطرے کی حد کو چھونے لگے

حکومت نے ملک کے بینکاری نظام سے بےتحاشہ قرضے لیے اور سال کی چوتھی سہ ماہی میں حکومت قرض لینے کی حد سے آگے بڑہ گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سنہ دو ہزار بارہ میں مقامی قرضوں میں ایک اعشاریہ چھ ٹریلین روپے کا غیرمعمولی اضافہ ہوا جوگذشتہ سال کے مقابلے میں تیئس فیصد زیادہ تھا۔ یوں ملک کے قرضے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے باسٹھ اعشاریہ چھ فیصد تک پہنچ گئے یعنی خطرے کی حد چھونے لگے۔

آج صورت حال یہ ہے کہ حکومت کا بڑا انحصار ملکی اور غیر ملکی قرضوں پر ہے۔ غیر ملکی مالیاتی ادارے پاکستان کی مدد سے ہاتھ اٹھا چکے ہیں، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے منصوبوں میں سرمایہ کاری روک دی ہے۔

پاکستان کو آئی ایم ایف کا قرض واپسی کرنا ہے ایسے میں سارا دباؤ مقامی ذرائع اور وسائل پر ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں پاکستان قرضوں کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔