شوکت اللہ:’قبائلیوں کاحقیقی نمائندہ‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 فروری 2013 ,‭ 17:44 GMT 22:44 PST

شوکت اللہ ریاستوں اور سرحدی علاقہ جات کے وزیر بھی رہ چکے ہیں

صوبہ خیبر پختون خوا کے نئے گورنر انجنیئر شوکت اللہ خان شاید ملکی تاریخ کی پہلی ایسی سیاسی شخصیت ہیں جو نہ صرف خود قبائلی ہیں بلکہ انہیں عملی طور پر قبائلی سیاست و امور کا تجربہ بھی حاصل ہے۔

شوکت اللہ خان نے اتوار کو گورنر ہاؤس پشاور میں نئے گورنر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

ان سے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس دوست محمد خان نے حلف لیا۔

انہیں گزشتہ روز بیرسٹر مسعود کوثر کی جگہ پر گورنر خیبر پختون خوا کے عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ قبائلی امور کی وزرات کےوفاقی وزیر تھے۔

پینتالیس سالہ شوکت اللہ خان کا تعلق باجوڑ ایجنسی کے ایک بااثر سیاسی خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سنگوٹہ ضلع سوات سے حاصل کی جبکہ کیڈٹ کالج کوہاٹ سے ایف سی کیا تھا۔

شوکت اللہ خان پیشے کے اعتبار سے انجنیئر ہیں اور انہوں نے انجنیئرنگ کی تعلیم ٹیکسلا یونیورسٹی سے حاصل کی ہے۔

وہ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں باجوڑ ایجنسی کے علاقے نواگئی سے آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اگرچہ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے تاہم ان کا خاندان پیپلزپارٹی کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

"اگر طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو اس میں موجودہ گورنر اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ شدت پسندوں کےلیے یہ بات اہم ہوگی کہ اس مرتبہ ان کی بات چیت ایک ایسی شخصیت سے ہوگی جو نہ صرف خود اس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں عسکریت پسند سرگرم ہیں بلکہ وہاں کی سیاست اور امور کو بخوبی جانتے بھی ہیں۔"

ان کے والد حاجی بسم اللہ خان بھی دو مرتبہ انیس سو اٹھاسی اور انیس سو ترانوے میں باجوڑ ایجنسی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔ شوکت اللہ کے ایک چھوٹے بھائی ہدایت اللہ خان موجود ایوان بالا یعنی سینیٹ کے رکن ہیں۔ ان کے ایک چچا بھی سینیٹ کے رکن ر ہے ہیں۔

شوکت اللہ خان کو ایسے وقت نیا گورنر مقرر کیا گیا ہے جب ملک میں یہ بات زور پکڑتی جارہی ہے کہ طالبان سے امن مذاکرات ہونے چاہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں پہلی مرتبہ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے جس کے تحت اب وہاں امیدوار سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لے سکیں گے۔

ملک کی دیگر صوبوں کے مقابلے میں خیبر پختون خوا کے گورنر کو اس لیے بھی اہمیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہاں کا گورنر پاک افغان سرحد پر واقع شورش زدہ قبائلی علاقوں کا نگران بھی ہوتا ہے اور وہاں کے تمام معاملات ان کی مرضی سے طے ہوتے ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شوکت اللہ خان کا باجوڑ ایجنسی کے طالبان گروپوں کے ساتھ اچھے مراسم ر ہے ہیں جن میں تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر مولوی فقیر محمد کا گروپ خصوصی طور پر قابل ذکر ہے۔

اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو اس میں موجودہ گورنر اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ شدت پسندوں کےلیے یہ بات اہم ہوگی کہ اس مرتبہ ان کی بات چیت ایک ایسی شخصیت سے ہوگی جو نہ صرف خود اس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں عسکریت پسند سرگرم ہیں بلکہ وہاں کی سیاست اور امور کو بخوبی جانتے بھی ہیں۔

اس سے قبل اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے علی محمد جان اورکزئی بھی خیبر پختون خوا کے گورنر رہ چکے ہیں لیکن چونکہ وہ فوج کے ایک جرنیل تھے اس وجہ سے انہیں فاٹا کی سیاست کا اس طرح اندازہ نہیں تھا جس طرح وہاں سے ووٹوں کے ذریعے سے منتخب ہونے والے ایک سیاست دان کو ہوتا ہے۔

باالفاظ دیگر انہیں قبائلی علاقوں کاحقیقی نمائندہ کہا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ بظاہر طالبان کے ساتھ نہ حل ہوتے ہوئے معاملات کو وہ کس طرح حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ادھر دوسری طرف قبائلی عوام نے بھی شوکت اللہ کی بحثیت گورنر تقرری کا خیرمقدم کیا ہے۔ کرم ایجنسی سے منتخب رکن قومی اسمبلی ساجد حسین توری کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ حکومت نے ایک ایسے شخصیت کو گورنر مقرر کیا ہے جسسے حقیقی طورپر وہاں کے عوام کا نمائندہ کہا جاتا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران صوبہ خیبر پختون خوا میں یہ دوسرا ایساگورنر ہے جو خالصتاً سیاست دان ہیں۔ اس سے پہلے مقرر کئے جانے والے زیادہ تر گورنر یا تو جرنیل تھے یا انہیں فوجی حکومتوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔