’سوئس حکام کا جواب میرے موقف کی تائید ہے‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 فروری 2013 ,‭ 16:12 GMT 21:12 PST

سوئس حکام کے موقف نے میرے موقف کی تائید کر دی ہے: یوسف رضا گیلانی

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے سوئس حکام کی طرف سے صدر آصف علی زرداری کےخلاف بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ نہ کھولنے کے فیصلے سے ان کے موقف کی تصدیق ہوگئی ہے کہ صدر کو ملک اور ملک سے باہر استثنیٰ حاصل ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انہوں نے اصولی موقف اختیار کیا اور خط نہیں لکھا۔ ’میرا موقف تھا اور ہے کہ صدر کو ملک کے اندر اور باہر استثنیٰ حاصل ہے۔ میں اسی لیے کہتا تھا کہ ہم خط نہیں لکھ سکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں واضح طور پر درج کہ صدرِ پاکستان کو آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اور وہ آئین کی خلاف کے مرتکب نہیں ہونا چاہتے تھے۔

کلِک ’صدر زرداری کے خلاف مقدمات نہیں کھل سکتے‘

انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیر اعظم نے جو خط لکھا ہے اسی خط میں بھی درج ہے کہ صدر کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔

انہوں نے کہا سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کا فیصلہ انہوں نے بطور وزیر اعظم کیا تھا لیکن انہیں سزا انفرادی حیثیت میں دی گئی۔

یوسف رضا نے کہا کہ انفرادی حیثیت میں دی گئی سزا کے خاتمے کے لیے انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔’جب عدالت میری درخواست کی سماعت کرے گی تو میں بتاؤں گا کہ میرے موقف کی تائید ہوگئی ہے کہ جینوا کنویشن کے تحت خط نہیں لکھا جا سکتا۔‘

پاکستانی حکام کے تحت سوئس حکام نےحکومتِ پاکستان کو مطلع کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ نہیں کھولے جا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے سوئس حکام کی جانب سے بھجوائے گئے خط کی تصدیق کی ہے جبکہ وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ سوئس حکومت کے فیصلے نے حکومتِ پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارت قانون کو ملنے والے خط میں سوئس حکام نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری کو بطور صدر عالمی طور پر استثنیٰ حاصل ہے اس لیے جب تک وہ اس عہدے پر فائز ہیں ان کے خلاف کسی بھی قسم کے مقدمات پر کارروائی شروع نہیں ہو سکتی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔