سانحۂ بلدیہ:فیکٹری مالکان کی ضمانت منظور

آخری وقت اشاعت:  پير 11 فروری 2013 ,‭ 05:56 GMT 10:56 PST

مقدمے کے تفتیشی افسر کے مطابق ارشد بھائیلا اور شاہد بھائیلا پر قتل عمد کا الزام ثابت نہیں ہوتا

کراچی میں سندھ ہائی کورٹ نے بلدیہ ٹاؤن میں آتشزدگی کے واقعے میں متاثر ہونے والی فیکٹری کے مالکان سمیت زیرِ حراست ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

بلدیہ ٹاؤن میں علی انٹرپرائز نامی فیکٹری میں گیارہ ستمبر 2012 کو پیش آنے والے اس واقعے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 259 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں سترہ کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

کراچی پولیس نے اس معاملے میں متاثرہ فیکٹری کے مالکان شاہد بھائیلا اور ارشد بھائیلہ سمیت دیگر ذمہ دار ملازمین کو گرفتار کیا تھا۔

فیکٹری مالکان نے سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جس پر پیر کو جسٹس غلام سرور نے ارشد اور شاہد بھائیلا کو دس، دس لاکھ روپے جبکہ ان کے مینیجر عزیز کو دو لاکھ روپے زرِ ضمانت کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔

اس مقدمے کے چالان میں پولیس فیکٹری مالکان کو قتلِ عمد کے الزام سے بری الذمہ قرار دے چکی ہے اور اب مقدمے سے یہ دفعہ خارج کرنے کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔

خیال رہے کہ فائر بریگیڈ، واقعے کے تحقیقاتی ٹربیونل اور کیمیکل تجزیے میں یہ ثابت ہوا تھا کہ فیکٹری میں آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی تھی اور تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ مالکان کے خلاف قتل عمد کا الزام واپس لینے کی وجہ یہ رپورٹیں بھی بنیں۔

کراچی کے تاجروں نے بھی وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے مطالبہ کیا تھا کہ فیکٹری کا واقعہ ایک حادثہ تھا اور اس کے مقدمے میں سے قتل کی دفعہ خارج کی جائے۔

جرمنی کے ایک بڑے کاروباری ادارے ’کک‘ نے کراچی کے کارخانے میں آگ لگنے سے جل کر ہلاک ہوجانے والے دو سو چونسٹھ مزدوروں کے لواحقین کو رقم کی ادائیگی کا عندیہ بھی دیا ہے۔

بی بی سی کی تحقیق کے مطابق جرمن کاروباری ادارے ’کک‘ کا کہنا ہے کہ وہ بطور ہرجانہ ایک ملین یورو (تقریباً پاکستانی بارہ کروڑ روپے) ادا کرے گی۔

بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری کے مزدور جرمن ادارے کک کی ’او کے‘ برینڈ کی جینز بناتے تھے اور مزدور رہنماؤں کے مطابق نوے فیصد پیداوار علی انٹر پرائزز میں ہوتی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔