طالبان کی دکانداروں کو ایک اور دھمکی

آخری وقت اشاعت:  پير 11 فروری 2013 ,‭ 11:54 GMT 16:54 PST

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع مشہور تجارتی مرکز کارخانو مارکیٹ میں سی ڈیز اور جنسی ادویات فروخت کرنے والے دکانداروں کو تحریک طالبان نے کاروبار بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے نام پر پشاور اور خیبر ایجنسی کی سرحد پر واقع مشہور تجارتی مرکز کار خانو مارکیٹ میں درجنوں پمفلٹ ملے ہیں جس میں بتایاگیا ہے کہ کارخانو مارکیٹ میں فحش سی ڈیز اور جنسی ادویات کا کاربار عام ہو چکا ہے جو غیر شرعی ہے اور اسلام اس قسم کے کاروبار کو منع کیا ہے۔

پمفلٹ میں کہاگیا ہے کہ تحریک طالبان نے اس سے پہلے بھی تجارت پیشہ افراد کو اس قسم کے کاروبار ترک کرنے کا کہا تھا لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور کارخانو مارکیٹ میں اشتعال انگیز فلموں کی سی ڈیز جنسی ادویات اور باڈی بلڈنگ کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کا کاروبار سر عام ہوتا ہے۔

پمفلٹ میں بتایاگیا ہے کہ اس کاروبار کی وجہ سے کارخانو مارکیٹ میں آنے والی خواتین اور بچوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پمفلٹ کے مطابق اس قسم کے کاروبار میں زیادہ تر افغان مہاجرین ملوث ہیں جس پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

دوسری جانب کارخانو مارکیٹ کے قریب قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں دو سربریدہ لاشیں ملی ہیں جنہیں سول ہسپتال جمرود منتقل کردیاگیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لاشیں شہر سے چھ کلومیٹر دور شمال مغرب کی جانب علاقہ گودر میں ایک پہاڑی نالے سے ملی ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق ابھی تک ان لاشوں کی شناخت نہیں ہوئی۔

اس واقعہ کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی انتظامیہ نے کسی پر الزام عائد کیا ہے۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی میں گزشتہ دو سے تین سالوں سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس میں جاسوسوں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔