’جمہوریت کی مضبوطی چاہتے ہیں، انتخابات کا التوا نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 فروری 2013 ,‭ 10:59 GMT 15:59 PST

آپ اپنی درخواست کی شنوائی کے لیے کسی اور فورم کا رخ کریں: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے حوالے سے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ کی پیٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں انتخابات کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ جمہوریت کو مزید مستحکم کریں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا الیکشن کمیشن کافی غور و غوص کے بعد تشکیل پایا ہے اور اس کو عدالت خراب نہیں کرے گی۔

انہوں نے یہ ریمارکس منگل کو الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے حوالے سے درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔

سماعت کے دوران طاہر القادری نے اپنی دوہری شہریت کے بارے میں تحریری جواب جمع کروایا اور اس حوالے سے بینچ کے سوالات کے جواب دیے۔

"اگر کوئی غیر ملکی پاکستان کے حساس معاملات کے متعلق درخواست لے کر آئے تو ہم اسے نہیں سنیں گے۔"

چیف جسٹس

سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کوئی غیر ملکی پاکستان کے حساس معاملات کے متعلق درخواست لے کر آئے تو ہم اسے نہیں سنیں گے۔

انھوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آئے ہوئے شخص کو ملک کا سیاسی منظرنامہ تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ایک موقع پر جب ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے دلائل دینا شروع کیے تو چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ عدالتی احترام ملحوظ رکھا جائے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ انھیں تو الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی کی تاریخ ہی معلوم نہیں ہے۔

چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے۔

"میں نے عدالت کو بتایا کہ میں یہاں بطورِ شیخ الاسلام نہیں آیا بلکہ ایک عام شہری اور عام ووٹر کی حیثیت سے آیا ہوں۔"

طاہر القادری

مقدمے کی سماعت کے بعد طاہرالقادری نے سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں بطورِ امیدوار حصہ لینے پر دہری شہریت نہ ہونے کی پابندی عائد ہے مگر ووٹ ڈالنے کے لیے آئین کی شق 51 کے تحت ایسی کوئی پابندی عائد نہیں ہے حتیٰ کہ سمندر پار پاکستانیوں کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ میں نے عدالت کو بتایا کہ میں یہاں بطورِ شیخ الاسلام نہیں آیا بلکہ ایک عام شہری اور عام ووٹر کی حیثیت سے آیا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ دہری شہریت جرم نہیں ہے، آئین کی کسی شق میں دہری شہریت والے کو رٹ دائر کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔

دہری شہریت کے سلسلے میں منقسم وفاداریوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین سے زیادہ دانشمندی کسی کے پاس نہیں اور آئین سولہ ممالک کے ساتھ دہری شہریت کی اجازت دیتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔