’اب لوگ جرگوں میں اس طرح نہیں بیٹھتے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 فروری 2013 ,‭ 18:18 GMT 23:18 PST

خیبر ایجنسی میں آفریدی قبیلے کے ذیلی قبیلے کوکی خیل کے ملک اکرام اللہ جان کوکی خیل کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کی جانب سے ہدف بنا کر قبائلی عمائدین کے قتل کے واقعات سے جرگے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ملک اکرام اللہ جان کوکی خیل کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کی روایت کے مطابق جرگوں کا انعقاد اس طرز پر نہیں ہو پا رہا جس طرح شدت پسندی کے واقعات میں قبائلی عمائدین کی ہلاکتوں کے سے پہلے ہوتا تھا۔

’اب لوگ جرگوں میں اس طرح نہیں بیٹھتے جس طرح وہ پہلے بیٹھتے تھے، وہ ڈرتے ہیں۔ تحصیل کی سطح پر اب بھی جرگے ہو رہے ہیں لیکن ان میں کافی تبدیلی آئی ہے۔‘

قبائلی عمائدین کی ہلاکتوں کے بعد ان کے ورثا کو دیے جانے والےمعاوضے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معاوضہ نہ ہونے کے برابر دیا جاتا ہے۔

ملک اکرام اللہ جان کوکی خیل نہ کہا، ’لاکھ، دو لاکھ یا چار لاکھ روپے دیے جاتے ہیں، کیا بنتا ہے اتنے میں؟ وہ بہت قیمتی لوگ تھے ان کی کوئی قیمت نہیں تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے قبائلی عمائدین خیبر ایجنسی کے قبیلوں کے بڑے رہنما اور عزت دار لوگ تھے اور ان کے ہلاک ہونے کے بعد ہونے والا نقصان پورا نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی افراد پڑھے لکھے نہیں ہوتے لہٰذا قبائلی عمائدین جرگے کے ذریعے ان کی آواز اور ان کے مسائل مقامی انتظامیہ تک پہنچاتے ہیں اور اس طرح وہ عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔