’مذاکرات کی پیشکش بدنیتی پر مبنی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 فروری 2013 ,‭ 15:54 GMT 20:54 PST

امن معاہدے پہلے بھی ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کی کارروائیاں ختم نہیں ہوئیں: احمد رشید

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی حالیہ مذاکرات کی پیشکش کو سیاسی اور حکومتی حلقوں میں امید کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے لیکن کچھ مبصرین کو تحفظات ہیں کہ پرانی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔

بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی احمد رشید نے کہا کہ پیشکش غلط بنیاد اور مقاصد پر مبنی ہے۔ بات چیت کا ماحول شرائط پر نہیں بلکہ جنگ بندی کی نیت پر قائم ہونا چاہیے۔

احمد رشید نے یاد دلایا کہ اس طرح کے امن معاہدے پہلے بھی ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کی کارروائیاں ختم نہیں ہوئیں۔

معروف صحافی رحیم اللہ یوسف زئی احمد رشید سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’حکومت ان شراط کو مان کر کمزور نظر آئے گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ مذاکرات کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش ہے۔‘

تجزیہ کار ریٹارڈ بریگیڈر شوکت قادر نے کہا کے تحریکِ طالبان کے ارادے خطرناک نظر آ رہے ہیں۔ وہ طاقت کے بل بوتے پر سیاست میں جگہ بنانا چاہ رہے ہیں اور یہ کسی ریاست کو قبول نہیں ہونا چاہیے۔

رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اس پیشکش کا تعلق آنے والے دنوں میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مذاکرات سے بھی منسلک ہے۔ ’ان کی نظر میں یہ تمام چیزیں مربوط ہیں۔ افغان طالبان جو فیصلہ کریں گے پاکستانی طالبان اس سے رہنمائی حاصل کریں گے۔‘

احمد رشید نے ملتا جلتا نکتہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا، ’پاکستانی طالبان دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ خطے سے جا رہا ہے تو اب ان کے جہاد کا مقصد کیا ہو گا؟‘

انہوں نے کہا کہ اس پیچیدہ صورتحال میں طالبان اپنا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کو ان کی کمزوری نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ دہشت گردی کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ ’یہ ابھی کمزور نہیں ہیں اور کافی خوف پھیلا سکتے ہیں۔‘

"پاکستانی طالبان دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ خطے سے جا رہا ہے تو اب ان کے جہاد کا مقصد کیا ہو گا؟ اس پیچیدہ صورتحال میں طالبان اپنا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کو ان کی کمزوری نہیں سمجھا جا سکتا۔"

احمد رشید

دوسری طرف بریگیڈیر شوکت کے خیال میں فوج کی کامیاب کارروائیوں کے باعث پاکستانی طالبان پسپا ہو گئے ہیں اور وقت لینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مستحکم ہو کر دوبارہ دہشت گردی شروع کر دیں۔

جب مبصرین سے پوچھا گیا کہ اس مسئلے کا حل سیاسی ہو گا یا فوجی عمل سے تو رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق حل مشترکہ ہونا چاہیے۔ فوجی کارروائی ضروری ہے لیکن بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔

برگیڈیر شوکت قادر نے کہا کہ ان کی نظر میں مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، ’ان لوگون کو اگر پہچان دی گئی تو ان کی سیاسی جگہ بن جائے گی۔‘

واضح رہے کہ تحریک طالبان کی اس پیشکش کو سیاسی حلقوں میں مثبت انداز میں دیکھا گیا ہے۔ چند دن قبل مسلم لیگ نواز کے صدر میاں نواز شریف نےزور دیا کہ عوام کو امن کی ضرورت ہے اور حکومت کو طالبان کے ساتھ بات چیت پر سنجیدگی دکھانی چاہیے۔

یاد رہے کہ طالبان نے مذاکرات کے ساتھ اپنی شرائط واضح کی ہیں کہ نواز شریف، جماعت اسلامی کے منور حسن اور جمیعت علائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان کو مذاکرات میں حکومت کا ’ضامن‘ ٹھہرایا جائے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔