چار حملوں میں چار حملہ آوروں سمیت 14 ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 فروری 2013 ,‭ 13:28 GMT 18:28 PST

پاکستان کے قبائلی علاقے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں چار مختلف واقعات میں چار حملہ آوروں سمیت چودہ افراد ہلاک اور اکتیس زخمی ہوئے ہیں۔

یہ حملے ایسے وقت ہو ئے ہیں جب اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کی دعوت پر بلائی جانے والی امن کانفرنس جاری ہے جس میں ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشاورت کی جا رہی ہے۔

جمعرات کے دن ہونے والی اس کانفرنس میں 27 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ جماعتِ اسلامی اور تحریکِ انصاف نے کانفرنس میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے ریڈیو پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو دو چیلنجوں کا سامنا ہے، دہشت گردی اور معیشت۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ حل ہونے سے ہی ملک میں سماجی اور معاشی ترقی آ سکتی ہے۔

ضلع ہنگو میں پولیس نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ شمالی وزیرستان اور ہنگو کے علاقے ٹل کی سرحد پر واقع چیک پوسٹ پر خود کش حملہ کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق یہ کار خودکش دھماکہ تھا جس میں دو لیویز ایک پولیس اہلکار اور ایک راہگیر ہلاک ہوا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سٹین ٹل چیک پوسٹ ایف سی اور پولیس کی مشترکہ چیک پوسٹ ہے۔

جمعرات ہی کو اس سے قبل بنوں کے قریب ایک پولیس تھانے پر صبح خودکش حملہ آوروں نے حملہ کیا۔

"بنوں جیل پر حملہ ہمارے نو طالبان ساتھیوں کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا جنھیں پولیس نے گرفتار کر لیا تھا اور بعد میں ان کی لاشیں شمالی وزیرستان کے شہر میران شاہ کے قریب پھینک دی گئی تھیں۔"

احسان اللہ احسان

پولیس کے مطابق مشتبہ افراد پولیس تھانے کی جانب پیدل آ رہے تھے۔ پولیس کی طرف سے فائرنگ کے بعد ان میں سے چار نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔

پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بنوں سے پندرہ کلومیٹر دور نیم قبائلی علاقے جنی خیل کے میریان پولیس تھانے پر پیش آیا۔

اس واقعے میں ایک سکیورٹی اہلکار کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

پانچواں شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ شخص خود کش حملہ آور ہو سکتا ہے۔

کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ حملہ ان کے نو طالبان ساتھیوں کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا جنھیں پولیس نے گرفتار کر لیا تھا اور بعد میں ان کی لاشیں شمالی وزیرستان کے شہر میران شاہ کے قریب پھینک دی گئی تھیں۔

دوسری جانب پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں دو مسافر گاڑیاں بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی ہیں جس میں چھ افراد ہلاک اور چھبیس زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

"جمعرات کو لوئر اورکزئی کے علاقے حسن زئی میں خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ سے ہنگو آنے والے دو گاڑیاں اورکزئی ایجنسی میں بارودی سرنگوں کا نشانہ بنیں جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک جبکہ چھبیس زخمی ہوئے ہیں۔"

مقامی انتظامیہ

اہلکار کے مطابق جمعرات کو لوئر اورکزئی کے علاقے حسن زئی میں خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ سے ہنگو آنے والے دو گاڑیاں اورکزئی ایجنسی میں بارودی سرنگوں کا نشانہ بنیں جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک جبکہ چھبیس زخمی ہوئے ہیں۔

اہلکار نے کہا کہ پہلا دھماکہ سات بجے کے قریب اس وقت ہوا جب گاڑی حسن زئی کے گاؤں میں داخل ہوچکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس دھماکے میں چار افراد ہلاک جبکہ بارہ زخمی ہوئے تھے۔

اہلکار کے مطابق دوسرا دھماکہ حسن زئی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک پہاڑی سلسلے میں ہوا ہے جس میں دو افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق زخمیوں میں چھ خواتین اور پانچ بچے شامل ہیں جنہیں ہنگو سول ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں گاڑیاں خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ سے ہنگو اور ہنگو سے پھر پشاور کی طرف جارہے تھے کہ اورکزئی ایجنسی میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں کا نشانہ بنیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق گاڑیوں میں سوار لوگوں کا تعلق خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ ذخہ خیل قبائل سے ہیں جہاں ذخہ خیل قبائل کے امن لشکر اور لشکر اسلام کے درمیان گزشتہ کئی سالوں سے جھڑپیں جاری ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی خیبر ایجنسی کے اندر ہی ذ خہ خیل قبائل پر کئی حملے ہوچکے ہیں جس سینکڑوں قبائل ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔