طالبان کی مولانا فضل الرحمٰن کے دورۂ قطر سے لاتعلقی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 فروری 2013 ,‭ 03:50 GMT 08:50 PST

’مولانا پاکستان سے کوئی ایجنڈا لے کر نہیں جا رہے‘

افغان طالبان نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن ان کی دعوت پر قطر گئے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک اعلامیے میں کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نہ طالبان کی دعوت پر قطر گئے ہیں اور نہ ہی طالبان کے دفتر کے سیاسی سربراہ سے ان کی ملاقات ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جمعیتِ علمائے اسلام کے سینیئر رہنما حافظ حسین احمد نے میڈیا کو بتایا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات میں ثالثی کے لیے قطر گئے ہیں۔

حافظ حسین احمد نے دعویٰ کیا تھا کہ مولانا کو امریکہ اور طالبان دونوں کی حمایت حاصل ہے۔

اس سلسلے میں بی بی سی نے جب جمعیتِ علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان مولانا امجد خان سے جب رابطہ کیا تو انھوں نے مولانا کے دورے کی تفصیلات کچھ یوں بتائیں:

’مولانا قطر ضرور گئے ہیں، لیکن کسی مذاکرات کا حصہ بننے کے لیے نہیں گئے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ مولانا کا ذاتی اور نجی دورہ ہے اور اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ انھیں پاکستان کی کمیونٹی اور جمعیت کے لوگوں نے بلایا ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ مولانا پاکستان سے کوئی ایجنڈا لے کر نہیں جا رہے، اور اگر وہ مذاکرات میں حصہ لیں گے تو اس بات کو سرِ عام نشر کیا جائے گا۔

افغان طالبان کی طرف سے انکار ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان طالبان نے مولانا فضل الرحمٰن کو اپنے ثالث کے طور پر تسلیم کیا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا سے قبل بین الاقوامی برادری تمام دھڑوں کو یکجا کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہی ہے، جس کی ایک کڑی افغان طالبان کو افغان حکومت اور اس کے بین الاقومی اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر آمادہ کرنا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔