پاکستانی کرنسی کے استحکام کے لیے اسٹیٹ بینک کی مداخلت

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 فروری 2013 ,‭ 21:03 GMT 02:03 PST

اسٹیٹ بینک کے مطابق اس وقت حکومت کے پاس آٹھ ارب پینتالیس کروڑ ڈالر ہیں۔ جبکہ نجی کھاتوں میں چار ارب ترانوے کروڑ ڈالرز ہیں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس ہفتے کرنسی کے کاروبار سے متعلق ایسے وقت میں دو اہم بیان جاری کیے ہیں جب ملک میں روپے کی مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

پہلا بیان تو ایک حکم ہے جس کے تحت کھلے بازار یعنی اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی خرید و فروخت کی قیمت میں فرق کی حد مقرر کی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے زرِمبادلہ کا کاروبار کرنے والی ایکسچینج کمپنیز کو پابند کیا ہے کہ کسی بھی حالت میں ڈالر کی قیمت خرید اور فروخت میں پچًیس پیسے سے زیادہ فرق نہیں ہونا چاہیۓ۔ ساتھ ہی ایکسچینج کمپنیز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ڈالر سمیت دیگر غیر ملکی کرنسیز کی شرح مبادلہ یعنی خرید و فروخت کے نرخ نمایاں طور پر آویزاں کریں۔

سٹیٹ بینک نے دوسرے بیان میں عوام سے کہا ہے کہ اگر کوئی ایکسچینج کمپنی ان احکامات کی پابندی نہ کرے تو اس کی شکایت اسٹیٹ بینک سے کرے۔ ساتھ ہی عوام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی کرنسی ڈیلر ڈالر یا دوسری کرنسی فروخت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کرے کہ غیر ملکی کرنسی دستیاب نہیں ہے یا قلًت ہے تو اس کی بھی فوری شکایت اسٹیٹ بینک سے کی جاۓ تاکہ ایسی ایکسچینج کمپنیز کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔

پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کی بڑی وجہ ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر کی ابتر صورتحال ہے

اگر پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کے رجحان اور کرنسی مارکیٹ میں بے یقینی اور اتار چڑھاؤ کو دیکھیں تو اس کی بڑی وجہ ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر کی ابتر صورتحال ہے۔ ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر آٹھ فروری کو پندرہ کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کی کمی کے ساتھ تیرہ ارب انتالیس کروڑ ڈالر ہو گئے ہیں- اس میں گیارہ فروری کو آئی- ایم- ایف کو ادا کیے گئے چودہ کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر شامل نہیں ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ زرِمبادلہ کے ذخائر میں حکومت کا حصًہ کم اور بینکس میں نجی کھاتوں میں ڈالرز میں اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت حکومت کے پاس آٹھ ارب پینتالیس کروڑ ڈالر ہیں۔ جبکہ نجی کھاتوں میں ڈالرز چار ارب اٹًھاسی کروڑ سے بڑہ کر چار ارب ترانوے کروڑ ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ لوگ روپے کی قدر میں مزید کمی کی توقع کر رہے ہیں اور ڈالر کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

ملک کے زرِمبادلہ کے حصول کے روایتی ذرائع ترسیلات اور برآمدات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں یا پھر امریکہ سے ملنے والی وہ رقم جو اسے دہشت گردی کی جنگ میں حلیف ہونے کی وجہ سے ملتی ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان کو نہ تو عالمی اداروں سے قرضے ملے ہیں اور نہ ہی مطلوبہ بیرونی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔اس مشکل صورتحال میں پاکستان عالمی مالیاتی ادارے کو قرض کی واپسی اب تک باقائدگی سے کر رہا ہے۔

عارف حبیب گروپ کے نائب صدر اور تجزیہ کار خرم شہزاد کہتے ہیں کہ کرنسی مارکیٹ میں قیاس آرائیاں بڑھ رہی تھیں اور روپے پر دباؤ بھی بڑھ رہا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے بر وقت تنبیہ کر کے اچھا قدم اٹھایا جس سے روپے پر دباؤ بھی کم ہوا اور قدر بھی بہتر ہوئی۔ ساتھ ہی ڈالر کی ذخیرہ اندوزی اور زیادہ منافع کمانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی بھی۔ ان کا کہنا ہے کے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید و فروخت میں فرق پچًیس پیسے تک محدود رکھنا زیادہ دن تک ممکن نہیں ہوگا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کے عالمی منڈی میں ڈالر کا استحکام اور قدر میں اضافہ بھی روپۓ کی قدر کو متاثر کرسکتا ہے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ملک کی خراب اقتصادی حالت کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری جمود کا شکار ہےالبتہ اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کار سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال دو ہزار تیرہ کے پہلے سات ماہ کے دوران ملک میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری بمشکل نصف ارب ڈالر تک پہنچ سکے گی۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کے پاکستان کو خراب اقتصادی حالت کی وجہ سے درجہ بندی کرنے والے عالمی ادارے مورگن اسٹینلے کے ایمرجِنگ مارکیٹس انڈیکس سے نکال دیا گیا تھا اور سب سے نچلے درجے یعنی فرنٹئیر مارکیٹس انڈیکس میں آگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کے پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں بیرونی سرمایہ کاری کم ہے-

اگر کرنسی کی عالمی منڈی پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کے یوروزون کی معاشی کارکردگی بھی اچھی نہیں اور یورو دباؤ میں ہے جس سے امریکی ڈالر کی قدر بہتر ہو رہی ہے- تجزیہ کار کہتے ہیں کے عالمی منڈی میں ڈالر کا استحکام اور قدر میں اضافہ بھی روپۓ کی قدر کو متاثر کرسکتا ہے۔

ایسے میں اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیز کو متنبہ کیا ہے کے اگر اُس کی پدایات کی خلاف ورزی کی گئی تو سخت کارروائی کی جائےگی- توقع کی جارہی ہے کہ مرکزی بینک کی مداخلت سے کرنسی مارکیٹ میں پائے جانے والاہیجان پر وقتی طور پرقابو پا لیاجائےگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔