مذاکرات کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں: طالبان

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 فروری 2013 ,‭ 18:05 GMT 23:05 PST
پاکستان میں طالبان کی فوٹو

تحریک طالبان کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر کل جماعتی کانفرنس کا انغقاد کرکے اپنی استمعار سوچ کا ثبوت دیا ہے

تحریک طالبان پاکستان نے اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کی دعوت پر بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ اعلامیہ میں مذاکرات کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں تھا بلکہ عوامی نیشنل پارٹی کے الیکشن مُہم کا ایک حصہ تھا۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی دعوت پر بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس کے مُشترکہ اعلامیہ کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا حکیم اللہ محسود کی سربراہی میں ایک غیر معمولی اجلاس ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس میں قبائلی علاقوں کے اھم کمانڈروں کے علاوہ سندھ، ؛پنجاب، بلوچستان اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے کمانڈروں نے حصہ لیا۔ اجلاس میں بتیس کمانڈر شریک تھے۔

انہوں نے کہا کہ کل جماعتی مُشترکہ اعلامیہ صرف پُرانے جملوں اور لفظوں کا مجموعہ ہے اور جماعت اسلامی کا شامل نہ ہونا عوامی نیشنل پارٹی کی دعوت پر بلائی گئی اجلاس پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی حکومت اور فوج کی طرف سے سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کے منتظر ہیں۔ ترجمان کے مطابق مذاکرات کا راستہ قوم اور علاقے کی خاطر اختیار کیا ہے اور اس کو طالبان کی کمزوری نہ سھمجا جائے۔

یادرہے کہ جمعرات کو ہونے والی اس کانفرنس میں ملک کی ستائیس سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے حصہ لیا تھا۔ اس کانفرنس میں جماعتِ اسلامی اور تحریکِ انصاف نے شمولیت اختیار نہیں کی تھی۔

کانفرنس میں بتایاگیا تھا کہ عسکریت پسندی اور تشدد کا ناسور کسی ایک جماعت، صوبے یا علاقے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔