متحدہ قومی موومنٹ کا حکومت سے علیحدگی کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 فروری 2013 ,‭ 16:15 GMT 21:15 PST

فاروق ستار نے اعلان کیا کہ اب ان کی جماعت مرکز اور سندھ میں حزب اختلاف کے بنچوں پر بیٹھے گی

پاکستان میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی حلیف جماعت ایم کیو ایم نے سندھ اور مرکز میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔

اس فیصلے کا اعلان متحدہ قومی مومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس میں کیا جنہوں نے زور دے کر کہا کہ اس بار ان کی جماعت کا فیصلہ اٹل ہے اور اس نتیجے پر ان کی جماعت بہت غوروغوص اور بحث مباحثے کے بعد پہنچی ہے۔

فاروق ستار نے اعلان کیا کہ اب ان کی جماعت مرکز اور سندھ میں حزب اختلاف کے بنچوں پر بیٹھے گی۔

اس علیحدگی کے فیصلے کی وجوہات بتاتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ اب ان کی جماعت کے لیے ممکن نہیں رہا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل رہ سکے جو لیاری امن کمیٹی کے لوگوں کی سرپرستی کر رہی ہے جو ان کے بقول مجرم ہیں اور لیاری کی گینگ وار میں ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے حکمران جماعت پر یہ بھی الزام لگایا کہ اس نے بلدیاتی نظام کے منظور شدہ بل پر عملدرآمد نہیں کروایا اور سندھ کے عوام کو افسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ایک اور بڑی وجہ موجودہ حکومت کی کارکردگی ہے جو ان کے مطابق ان کی جماعت کے لیے ایک اضافی بوجھ ہے اور ان کی جماعت نہیں چاہے گی کہ جب وہ عوام کی عدالت میں جائیں تو ان کے ساتھ یہ اضافی بوجھ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے حکومت کی مدد کرنے کی زمہ داری گزشتہ کئی سالوں میں ادا کی ہے، جس دوران اس نے بہت زیادہ ایسے کام کیے جس سے ہمارے پاس مواقع تھے کہ ہم حکومت چھوڑ دیتے مگر ہم نے اپنی زمہ داری پوری کی۔‘

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔