کوئٹہ: ہزارہ ٹاؤن میں دھماکہ، پچہتر ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 فروری 2013 ,‭ 17:14 GMT 22:14 PST

کوئٹہ کے سی سی پی او میر زبیر محمود نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس دھماکے میں ستر سے اسی کلو کے قریب دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس کے مطابق بم دھماکے کے نتیجے میں پچہتر افراد ہلاک جبکہ ایک سو اسی سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں جسے ایک شيعہ ہزارہ برادري کے افراد کے خلاف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

دھماکے میں شدید زخمی بیس افراد کو علاج کے لیے اتوار کو کراچی منتقل کیا جار رہا ہے۔

کوئٹہ کے سی سی پی او میر زبیر محمود نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس دھماکے میں ستر سے اسی کلو کے قریب دھماکہ خیز مواد استعمال کیاگیا۔

گورنر بلوچستان سردار ذولفقار مگسی نے اتوار کو اس واقعے پر صوبے بھر میں سوگ کا اعلان کیا ہے اور تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم اتوار کو سر نگوں رہے گا۔

اس کے ساتھ ہی گورنر بلوچستان نے ہلاک ہونے والے تمام افراد کے لواحقین کے لیے دس دس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔

گورنر ذوالفقار مگسی نے کہا کہ یا تو ہمارے سکیورٹی ادارے ان افراد کو پتہ چلانے کا اہل نہیں ہیں یا پھر ڈرتے ہیں کہ کہیں انہیں بھی نہ نشانہ بنایا جائے۔

بلوچستان پولیس کے ترجمان ڈی آئی جی انویسٹی گیشن فیاض سنبل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھی ہلاکتوں اور زخمی افراد کی تصدیق کی ہے۔

"یہ علاقہ شام کے اوقات میں انتہائی مصروف ہوتا جہاں گھریلو خواتین بڑی تعداد میں سبزی اور فروٹ کی خریداری کے لیے آتی ہیں۔ اس علاقے میں اے بڑی سبزی اور فروٹ کی ریڑھیوں کی منڈی لگتی ہے جس کی وجہ سے بہت رش ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ ہی ایک میدان ہے جس میں نوجوان والی بال اور ایک ہزارہ روایتی کھیل کھیلتے ہیں۔"

قادر نائل ہزارہ ٹاؤن کے رہائشی

اس سے قبل بلوچستان کے ڈی آئی جی وزیر خان ناصر نے بی بی سی کو تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں ہوا جہاں شيعہ ہزارہ برادري سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت رہتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ایک ریمورٹ کنٹرول بم تھا جسے سڑک کے کنارے پر نصب کیا گیا تھا اور اس کا واضح نشانہ شيعہ ہزارہ برادري سے تعلق رکھنے والے افراد تھے۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریب ہی واقع بولان میڈیکل کمپلیکس اور سی ایم ایچ کوئٹہ لیجایا گیا ہے اور ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

بڑی تعداد میں زخمیوں کی وجہ سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

ہزارہ ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے قادر نائل نے بتایا کہ ’یہ دھماکہ جس علاقے میں ہوا وہ کرانی روڈ سے متصل ہے اور اس کے ایک جانب ہزارہ ٹاؤن اور دوسری جانب نیو ہزارہ ٹاؤن ہے۔‘

گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ ہزاری برادری کے خلاف سب سے بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہے

قادر نے مزید بتایا کہ ’یہ علاقہ شام کے اوقات میں انتہائی مصروف ہوتا جہاں گھریلو خواتین بڑی تعداد میں سبزی اور فروٹ کی خریداری کے لیے آتی ہیں۔ اس علاقے میں ایک بڑی سبزی اور فروٹ کی ریڑھیوں کی منڈی لگتی ہے جس کی وجہ سے بہت رش ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ ہی ایک میدان ہے جس میں نوجوان والی بال اور ایک ہزارہ روایتی کھیل کھیلتے ہیں۔‘

کوئٹہ کے سی ایم ایچ سے قادر بیگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے سامنے کئی افراد کو ہسپتال لایا گیا جو شدید زخمی تھے۔

اس دھماکے کی زمہ داری کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے ترجمان نے بی بی سی کو فون کر کے قبول کی ہے۔

بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد ہزارہ برادری کے افراد کے خلاف یہ سب سے بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

یاد رہے کہ دس جنوری کو علمدار روڈ پر ہونے والے دو بم دھماکوں کے بعد ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی میتوں کو دفن کرنے سے انکار کرتے ہوئے کئی روز تک دھرنا دیا۔

اس دھرنے کا اختتام بلوچستان میں نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کے خاتمے اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کے بعد کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔