الٹیمیٹم دیے بغیر علیحدگی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 فروری 2013 ,‭ 08:48 GMT 13:48 PST

سندھ اسمبلی میں حکمران جماعت نے چار سال بغیر اپوزیشن کے گزارے ہیں

پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق حریف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی حالیہ ناراضگی اس وقت نظر آئی تھی جب آئی جی سندھ پولیس نے ارکانِ سندھ اسمبلی کو جمعرات کو ان کیمرہ بریفنگ دی تھی، متحدہ قومی موومنٹ نے اس بریفنگ کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

متحدہ قومی موومنٹ کا الزام تھا کہ پیپلزپارٹی کے کچھ عناصر بھتہ خوروں کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کا یہ الزام اس اعلامیے کی روشنی میں سامنے آیا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ پیپلز امن کمیٹی کے رہنما عذیر بلوچ، ظفر بلوچ، حبیب جان اور دیگر پر دائر مقدمات واپس لے لیے گئے ہیں۔

سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ان اطلاعات کو مسترد کیا تھا لیکن متحدہ قومی موومنٹ نے اسی کو جواز بناکر سنیچر کو وفاقی اور صوبائی حکومت سے علیحدگی اختیار کی۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ایم کیو ایم کا حکومت سے علیحدگی کا اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے اسپیکر سندھ اسمبلی کو دی گئی مہلت ختم ہو رہی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے مسلم لیگ فنکنشل، نیشنل پیپلزپارٹی کی درخواست پر اسپیکر کو دس روز میں قائد حزبِ اختلاف نامزد کرنے کی مہلت دی تھی۔

سندھ اسمبلی میں حکمران جماعت نے چار سال بغیر اپوزیشن کے گزارے ہیں، صرف ارباب غلام رحیم گروپ اپوزیشن کے طور پر جانا جاتا تھا، لیکن ارباب غلام رحیم نے خود دبئی میں روپوشی اختیار کر رکھی ہے۔

روایت سے ہٹ کر اس بار ایم کیو ایم نےالٹیمیٹم دیے بغیر ایکشن کا اظہار کیا ہے

مسلم لیگ فنکشنل، نیشنل پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی حکومت میں شامل رہیں لیکن بلدیاتی نظام پر اختلاف رائے رکھتے ہوئے انہوں نے چھ ماہ قبل حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

مسلم لیگ فنکشنل، این پی پی اور اے این پی نے نصرت سحر عباسی کو قائد حزبِ اختلاف نامزد کیا لیکن اسپیکر نے نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا، اور تینوں جماعتیں یہ معاملہ عدالت میں لے گئیں۔

اسپیکر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ انہیں قائد حزبِ اختلاف کے لیے دو درخواستیں موصول ہوئی ہیں، ایک ارباب غلام رحیم کی ہے جنہیں ایوان نے نشست سے محروم کردیا تھا اب معاملہ عدالت میں ہے، دوسری درخواست نصرت سحر عباسی کی ہے، جس پر اکثریت کے دستخط نہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ اگر اپوزیشن نشستوں پر جاتی ہے تو اس کے پاس سب سے زیادہ نشستیں ہیں اور قوانین کے مطابق قائد حزبِ اختلاف کے منصب کی حقدار ایم کیو ایم ہوگی۔

حالیہ آئینی ترامیم کے بعد نگران حکومت کے لیے قائد حزبِ اختلاف سے مشاورت لازمی ہے، اتحادی ہونے کے علاوہ اپوزیشن میں رہے کر بھی ایم کیو ایم اپنی رائے دے سکتی ہے۔

اسپیکر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کا کردار روایتی ہے، اس کو آئینی اور قانونی بنانے کے لیے قومی اسمبلی کی طرح رولز آف پروسیجر میں ترمیم کرنا ہوگی۔

قابل غور یہ بات بھی ہے کہ مسلم لیگ فنکشنل نے چند ماہ قبل حیدرآْباد میں جب عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا تو جماعت کے سربراہ پیر پگارہ صبغت اللہ شاھ راشدی نے متنبہ کیا تھا کہ حکومت اپنے اتحادیوں کو قائد حزبِ اختلاف بنانا چاہتی ہے تاکہ نگران سیٹ اپ بنانے میں کوئی دشواری نہ ہو۔

حکومت سے علیحدگی کا ایک جواز بلدیاتی نظام نافذ کرنے میں تاخیر بتایا گیا ہے، اس نظام کی وجہ سے سندھ میں پیپلز پارٹی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس ایک نقاطی ایجنڈہ پر قومپرست جماعتوں نے مسلم لیگ فنکشنل اور بعد میں مسلم لیگ ن سے اتحاد کیا تھا۔

دیگر کئی معاملات کی طرح سندھ میں بلدیاتی نظام کا نفاذ بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، اس کے مستقبل کا فیصلہ اب سیاسی قیادت کے بجائے عدلیہ کے ہاتھ میں ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیامانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے جمعے کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ نگران وزیر اعظم کے لیے مذاکرات جاری ہیں، انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے، لیکن چوبیس گھنٹوں میں صورتحال اچانک تبدیل ہوگئی۔

روایت سے ہٹ کر اس بار ایم کیو ایم نےالٹیمیٹم دیے بغیر ایکشن لیا ہے۔ ایم کیو ایم کا ہر ایکشن ہمیشہ ہی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے لیکن بعد کی صورتحال ایسی ہوتی ہے، جیسی طوفان ٹل جانے کی ہوتی ہے۔

سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاھ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کسی منصوبہ بندی کے تحت علیحدہ نہیں ہوئی، تاہم وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اپوزیشن میں اب ان کی اکثریت ہوگی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔