کوئٹہ دھماکہ: دھرنا دوسرے دن بھی جاری

آخری وقت اشاعت:  پير 18 فروری 2013 ,‭ 07:55 GMT 12:55 PST

ہفتے کے دن بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین پیر کے روز بھی نہیں کی گئی، جب کہ شہر کے دو مقامات پر احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

کوئٹہ سے ہمارے نمائندے کے مطابق شہر کے مشرقی علاقے میں واقع علمدار روڈ اور مغرب میں ہزارہ ٹاؤن میں احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ مجلس وحدت المسلمین پاکستان کا کہنا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک تدفین نہیں کی جائے گی۔

اس کے علاوہ پیر کے روز اس دھماکے کے خلاف احتجاج کے طور پر کراچی میں شیعہ علما کاؤنسل کی اپیل پر شٹرڈاؤن ہڑتال جاری ہے، جس کی حمایت ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان، تحریکِ انصاف اور دیگر جماعتیں کر رہی ہیں۔

ہفتے کے دن ہونے والے اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے شیعہ تھے۔

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد اور تاجر تنظیموں نے بھی پیر کو کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا تھا، جس کے باعث تمام چھوٹے بڑے بازار اور مارکیٹیں بند ہیں، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی میں نجی اسکول بھی آج بند ہیں، جبکہ سرکاری اسکولوں میں بھی تدریسی عمل معطل رہا، بعض جامعات نے اپنے امتحانات ایک روز کے لیے موخر کر دیے ہیں۔

اس سے پہلے اتوار کی شام تک گرو مندر، لیاقت آباد اور دیگر علاقوں میں کم سے کم چھ گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا تھا، بعض علاقوں میں فائرنگ کی آواز بھی سنی گئی ۔

نمائش چورنگی اور ملیر کالا بورڈ پر شیعہ تنظیموں کی جانب سے دھرنا دیا گیا ہے، جس کے بعد شہر کی دونوں اہم شاہراہوں پر آمدرفت معطل ہے۔ ان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ کوئٹہ میں فوری طور پر فوج کو طلب کیا جائے اور دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹ آپریشن کیا جائے۔

احتجاج میں وکلا برادری بھی شامل ہے، پاکستان بار کاؤنسل کی اپیل پر سندھ ہائی کورٹ اور سٹی کورٹس میں وکلا نے ہڑتال کی ہے۔

رواں سال شہر میں یہ چوتھی ہڑتال تھی، اس سے پہلے بھی کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی پر خودکش حملے، ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی منظر امام کی ہلاکت اور تین علما کے قتل کے خلاف شہر بند رہا تھا۔

اس سے قبل مجلس وحدت المسلمین پاکستان کے ترجمان سید محمد ہادی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے مطالبات کیے ہیں اور جب تک ان کو پورا نہیں کیا جاتا تب تک تدفین نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پرانے مطالبات ہی ہیں جن میں صوبے کو فوج کے حوالے کرنا، شدت پسندوں کے خلاف ٹارگٹ آپریشن کی جائے۔

’سکیورٹی ادارے ذمے دار‘

بلوچستان کے گورنر نواب ذولفقار مگسی نے ملک کے سکیورٹی اداروں کو اس واقعے کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ یا تو وہ نااہل ہیں یا پھر نشانہ بنائے جانے سے خوف زدہ ہیں۔

گورنر بلوچستان نے اس واقعے پر صوبے بھر میں اتوار کو سوگ منانے اعلان کیا جس کے نتیجے میں تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سر نگوں رہے گا۔

اس کے ساتھ ہی گورنر بلوچستان نے ہلاک ہونے والے تمام افراد کے لواحقین کے لیے دس دس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔

بلوچستان پولیس کے ترجمان ڈی آئی جی انویسٹی گیشن فیاض سنبل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچاسی ہو گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دھماکے میں آٹھ سو سے ایک ہزار کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔

اس واقعے کے خلاف کوئٹہ شہر میں شٹر ڈاون ہڑتال کی جارہی ہے جبکہ سرکاری طور پر صوبے بھر میں سوگ منایا جارہا ہے۔ اور تمام سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں ہے۔

پختون خوا ملی عوامی پارٹی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے تنظیموں کی طرف سے ہڑتال کی کال کی حمایت کی ہے۔

"یہ علاقہ شام کے اوقات میں انتہائی مصروف ہوتا جہاں گھریلو خواتین بڑی تعداد میں سبزی اور فروٹ کی خریداری کے لیے آتی ہیں۔ اس علاقے میں اے بڑی سبزی اور فروٹ کی ریڑھیوں کی منڈی لگتی ہے جس کی وجہ سے بہت رش ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ ہی ایک میدان ہے جس میں نوجوان والی بال اور ایک ہزارہ روایتی کھیل کھیلتے ہیں۔"

قادر نائل ہزارہ ٹاؤن کے رہائشی

دھماکے میں شدید زخمی بیس افراد کو علاج کے لیے اتوار کو کراچی منتقل کیا جار رہا ہے۔

ریموٹ کنٹرول بم

اس سے قبل بلوچستان کے ڈی آئی جی وزیر خان ناصر نے بی بی سی کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں ہوا جہاں ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت رہتی ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ یہ ایک ریمورٹ کنٹرول بم تھا جسے سڑک کے کنارے پر نصب کیا گیا تھا اور اس کا واضح نشانہ ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد تھے۔

گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی نے سنیچر کو کہا کہ یا تو ہمارے سکیورٹی ادارے ان افراد کو پتہ چلانے کا اہل نہیں ہیں یا پھر ڈرتے ہیں کہ کہیں انہیں بھی نہ نشانہ بنایا جائے

ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریب ہی واقع بولان میڈیکل کمپلیکس اور سی ایم ایچ کوئٹہ لے جایا گیا تھا اور ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

ہزارہ ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے قادر نائل نے بتایا تھا کہ ’یہ دھماکہ جس علاقے میں ہوا وہ کرانی روڈ سے متصل ہے اور اس کے ایک جانب ہزارہ ٹاؤن اور دوسری جانب نیو ہزارہ ٹاؤن ہے۔‘

قادر نے مزید کہا تھا کہ ’یہ علاقہ شام کے اوقات میں انتہائی مصروف ہوتا ہے جہاں گھریلو خواتین بڑی تعداد میں سبزی اور فروٹ کی خریداری کے لیے آتی ہیں۔ اس علاقے میں ایک بڑی سبزی اور فروٹ کی ریڑھیوں کی منڈی لگتی ہے جس کی وجہ سے بہت رش ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ ہی ایک میدان ہے جس میں نوجوان والی بال اور ایک ہزارہ روایتی کھیل کھیلتے ہیں۔‘

اس دھماکے کی ذمے داری کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے ترجمان نے بی بی سی کو فون کر کے قبول کی تھی۔

بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد ہزارہ برادری کے افراد کے خلاف یہ سب سے بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

یاد رہے کہ دس جنوری کو علمدار روڈ پر ہونے والے دو بم دھماکوں کے بعد ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے میتوں کو دفنانے سے انکار کرتے ہوئے کئی روز تک دھرنا دیا تھا۔

اس دھرنے کا اختتام بلوچستان میں نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کے خاتمے اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کے بعد کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔