سانحۂ کوئٹہ: چھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کا قیام

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 فروری 2013 ,‭ 20:45 GMT 01:45 PST

سولہ فروری کے دھماکے کے بعد بھی لواحقین نے تدفین سے انکار کردیا ہے اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ صوبے میں فوج کو تعینات کیا جائے

وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے چھ رکنی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے جو کوئٹہ جا کر دھرنہ دینے والی شيعہ ہزارہ برادري کے ساتھ مذاکرات کرے گی اور اس سانحے پر ایک مفصل رپورٹ پیش کرے گی۔

اس چھ رکنی کمیٹی میں وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مولا بخش چانڈیو، وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی امور میر ہزار خان بجرانی، سینیٹر صغریٰ امام، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور رکنِ قومی اسمبلی ندیم افضل چن اور رکنِ قومی اسمبلی یاسمین رحمٰن شامل ہیں۔

یہ چھ رکنی وفد جلد ہو کوئٹہ کا دورہ کرے گا جہاں یہ شيعہ ہزارہ برادري کے ارکان سے بات چیت کرے گا جبکہ اس کے علاوہ سکیورٹی ایجنسیوں اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے بھی ملاقات کرے گا۔

اس کمیٹی کو سانحۂ کوئٹہ پر ایک مفصل رپورٹ پیش کرنے کا کہا گیا جو یہ اس دورے کے بعد پیش کرے گی۔

اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور ایف سی کو مضبوط کیا گیا لیکن پھر بھی کوئٹہ کا یہ واقعہ پیش آیا ہے۔

انہوں نے شيعہ ہزارہ برادري کے افراد کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تمام سکیورٹی فورسز اور ایجنسیوں کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ دہشت گردی نے تمام طبقوں کو متاثر کیا ہے اور اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو متحدہ ہوکر کارروائی کرنی ہوگی۔

انہوں نے کوئٹہ سانحے کے بارے میں کہا کہ ’ہم ہر حد تک جائیں گے اور وفاقی یا صوبائی ایجنسی کی کوتاہی ثابت ہوئی توذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے‘۔

یاد رہے کہ سولہ فروری کو کوئٹہ میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں نواسی افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔

اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔

سولہ فروری کے دھماکے کے بعد بھی لواحقین نے تدفین سے انکار کردیا ہے اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ صوبے میں فوج کو تعینات کیا جائے۔

ان کے اس مطالبات کے حوالے سے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علمدار روڈ کے واقعے کے بعد بلوچستان میں سکیورٹی فورسز، ایف سی اور نیم فوجی فورسز کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے گئے۔ ’لیکن اس کے باوجود یہ واقعہ پیش آیا ہے۔‘

اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سولہ فروری کے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے منگل کو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو طلب کرلیا ہے۔

دوسری جانب ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔