پشاور: پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر پر حملہ، سات ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 18 فروری 2013 ,‭ 08:08 GMT 13:08 PST

خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کا دفتر پشاور میں واقع ہے

پشاور میں واقع خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر پر حملے میں سات افراد ہلاک جب کہ دس زخمی ہوئے ہیں۔

پشاور میں ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صُبح تین مُسلح افراد نے فائرنگ کر کے تین لیویز اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔ لیویز اہلکاروں کی وردیوں میں ملبوس حملہ آور خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر میں واقع حراستی مرکز میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

پولیس کے مطابق اس حملے میں تین لیویز کے علاوہ دو حملہ آور اور دو عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔

آنکھوں دیکھا حال

صحافی سدھیر آفریدی اس وقت عمارت کے اندر موجود تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو آدھے گھنٹے تک جاری رہنے والے اس واقعے کی آنکھوں دیکھی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:

’ہم لوگ جوں ہی مین گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو خاصہ دار فورس کی وردی میں ملبوس افراد نے عمارت کے صدر دروازے کے قریب آ کر فائرنگ شروع کر دی۔ محافظوں نے جوابی فائرنگ کی لیکن اس دوران لوگوں کی بھگدڑ مچ جانے سے زبردست افراتفری پھیل گئی۔ کئی لوگ باتھ روموں اور اندرونی کمروں میں جا چھپے۔

’حملہ آور بھی خاصہ داروں کی سیاہ وردی میں تھے، اس لیے یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ کون دوست ہے اور کون دشمن۔حملے کے وقت پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر میں انتخابات کے ضابطۂ اخلاق کے بارے میں اجلاس جاری تھا۔

’اسی دوران دو دھماکے بھی ہوئے۔ حملہ آور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ ناصر خان کے دفتر کے برآمدے تک پہنچ گئے تھے، لیکن وہاں وہ سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے مارے گئے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس دوران پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر میں خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کا پولیٹیکل ایجنٹ کے ساتھ ایک جرگہ بھی جاری تھا۔

پشاور کے بم ڈسپوزل سکواڈ کے سربراہ شفقت ملک نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’دو حملہ آور خودکش تھے، جن میں سے ایک نے گیٹ پر جب کہ دوسرے نے مرکزی دفتر کے کنٹرول روم میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘

اے ایف پی نے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان جمال شاہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہسپتال میں سات شدید زخمی افراد کو لایا گیا ہے۔

پولیٹیکل کچہری میں موجود مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس دوران دو بڑے دھماکے بھی ہوئے جس سے کچہری کے اندر اور باہر دھواں اُٹھنے لگا۔

اس واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی ہے اور قریبی علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا ہے لیکن ابھی تک کوئی گرفتاریاں عمل میں نہیں آئی ہیں۔

پولیٹیکل ایجنٹ کا دفتر پشاور میں صدر کے علاقے میں واقع ہے جہاں دفتر کے اطراف فوجی چیک پوسٹوں کے علاوہ آرمی کالونی اور میڈیا کے کئی دفاتر موجود ہیں۔

یادرہے کہ اس واقع سے پہلے اسی دفتر کے سامنے خیبر سُپر مارکیٹ میں دو دھماکے ہوئے تھے ایک دھماکے میں مقامی صحافی نصراللہ آفریدی جب کہ دوسرے دھماکے میں ایک صحافی سمیت ایک درجن سے زیادہ ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔