کوئٹہ: لواحقین کا تدفین سے انکار، ملک بھر میں دھرنے

آخری وقت اشاعت:  پير 18 فروری 2013 ,‭ 13:25 GMT 18:25 PST

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے تدفین سے انکار کردیا ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد نواسی ہو گئی ہے۔

کوئٹہ میں سنیچر کی شام ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تیس گھنٹے گزرنے کے باوجود تدفین نہیں کی گئی ہے۔

کوئٹہ سے ہمارے نمائندے کے مطابق شہر کے مشرقی علاقے میں واقع علمدار روڈ اور مغرب میں ہزارہ ٹاؤن میں احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

احتجاجی دھرنے میں خواتین، مرد اور بچے بھی شامل ہیں۔

مجلس وحدت المسلمین پاکستان کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات پورے ہونے تک ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین نہیں کی جائے گی۔ مظاہرین نے کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے بات کرتے ہوئے صوبائی سیکریٹری صحت نصیب اللہ بازئی نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد نواسی ہو گئی ہے۔

دریں اثناء پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کوئٹہ بم دھماکے کا از خود نوٹس لے لیا۔

سپریم کورٹ کے مطابق از خود نوٹس کیس کی سماعت منگل کو اوپن کورٹ میں ہو گی۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کر دیا۔

دوسری جانب ہزارہ شیعہ برادری پر حملے کے خلاف ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں احتجاجی دھرنے دیے گئے جو ابھی تک جاری ہیں۔

اس موقع پر مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ جب تک کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے کا دھرنا جاری ہے اس وقت تک ان کا احتجاج بھی ختم نہیں ہوگا۔

"ہزارہ ٹاؤن میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہم یہاں دھرنا دینے پر مجبو ر ہوئے ہیں۔ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف ٹارگٹ آپریشن اور کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے۔"

مجلس وحدت المسلمین اسلام آباد کے صدر ظہیر حسین

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے کےخلاف اسلام آباد میں شعیہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع مقام فیض آباد کو صبح سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا جس کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کا نظام متاثر رہا۔

مجلس وحدت مسلمین اسلام آباد کے صدر ظہیر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ہزارہ ٹاؤن میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یہاں دھرنا دینے پر مجبو ر ہوئے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف ٹارگٹ آپریشن اور کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق سانحہ کوئٹہ کے خلاف لاہور اور ملتان میں بھی مظاہرے کیے گئے۔

لاہور میں گورنر ہاؤس کے سامنے بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین کے مطابق وکلاء برادری نے کوئٹہ سانحے کے خلاف مظاہرے کیے۔

کوئٹہ سانحے کے خلاف خلاف پیر کو کراچی میں شیعہ علما کونسل کی اپیل پر شٹرڈاؤن ہڑتال جاری ہے، جس کی حمایت ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان، تحریکِ انصاف اور دیگر جماعتیں کر رہی ہیں۔

"ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اہل تشیع کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ بلوچستان ایک حساس علاقہ ہے اور وہاں کی معیشت میں ہزارہ برادری کا اہم اہم کردار ہے، یہی وہ طبقہ ہے جو پاکستان کو عدم استحکام سے بچانے کی سازش کے خلاف ایک موُثر آواز ثابت ہو سکتا ہے اسے انہیں بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے۔"

مجلس وحدت المسلمین کے رہنما مولانا صادق رضا

کراچی سے ہماری نامہ نگار کے مطابق سانحہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں شیعہ علما کونسل کی کال پراحتجاج اور دھرنا جاری ہے۔

شیعہ علما کونسل نے پاکستان کے شہر کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعے کو پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دے کرملک توڑنے کی بین الاقوامی سازش قرار دیا۔

شیعہ علما کونسل کے رہنما سید علی نقوی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس خطے سے غیر ملکی مفادات وابستہ ہیں اور حالات خراب کرنے کا بہترین طریقہ فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینا ہے۔

مجلس وحدت المسلمین سمیت کئی تنظیموں نے شعیہ علما کونسل کی ہزارہ برادری کو نشانہ بنانے کے خلاف ہڑتال کی حمایت کی اور احتجاجی دھرنے میں شرکت کی۔ مظاہرین نے سانحہ کوئٹہ کے ذمہ دار افراد کی فوری گرفتاری اور دہشت گردوں کے خلاف فوج کی نگرانی میں ٹارگٹڈ آپریشن کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر مجلس وحدت المسلمین کے رہنما مولانا صادق رضا کا کہنا تھا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اہل تشیع کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔

شیعہ علما کونسل کی کال پر احتجاج اور شہر میں ایک درجن سے زیادہ مقامات پر دھرنے دیے گئے جن میں نمائش چورنگی، گلشن اقبال، گلستان جوہر، شاہراہ فیصل، کلفٹن، رضویہ سوسائٹی، عائشہ منزل اور ملیر شامل ہیں۔

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ مجلس وحدت المسلمین نے ان سے رابطہ کر کے ہڑتال کی حمایت کی اپیل کی تھی جس کے بعد انہوں نے پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر نہ لانے کا فیصلہ کیا تھا۔

حیدر آباد سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سپر ہائی وے کو بند کر رکھا ہے جس کے باعث کراچی، اندروں سندھ اور پنجاب کے درمیان بذریعہ سٹرک رابطہ منقطح رہا۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق شعیہ علما کونسل کی جانب سے آج پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔