طالبان سے مذاکرات: فوج کا اپنی رائے ’محفوظ‘ رکھنے کا اشارہ

آخری وقت اشاعت:  پير 18 فروری 2013 ,‭ 12:14 GMT 17:14 PST

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے پاکستان کی سیاسی قیادت کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی

پاکستانی فوج نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اور اس کے جواب میں سیاسی قیادت کے ردعمل سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس پالیسی فیصلے کے بعد پاکستانی فوجی قیادت نے اس معاملے پر کوئی بیان جاری کرنے یا اس بارے میں ہونے والی سیاسی فیصلہ سازی کے عمل میں بھی براہ راست شریک نہ ہونے کا اشارہ دیا ہے۔

پاکستانی فوج کے اس فیصلے کے بعد کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع کا وہ اجلاس ممکنہ طور پر تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے جس میں ملکی سیاسی اور فوجی قیادت نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر غور کرنا تھا۔

یاد رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے پاکستان کی سیاسی قیادت کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔

حزب اختلاف کے رہنما نواز شریف کی جانب سے مذاکرات کی حمایت کے بعد وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس پیشکش پر غور کرنے کے لیے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا تھا۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کابینہ کمیٹی کا یہ اجلاس منگل انیس فروری کو طلب کیا تھا تاہم کابینہ ڈویژن ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس اجلاس کے انعقاد کے لیے حتمی نوٹیفیکشن جاری نہیں کیا جا سکا ہے۔

روایات کے مطابق وزیراعظم کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے لیے مسلح افواج کے سربراہوں سے ابتدائی مشاورت کے بعد ایک تاریخ تجویز کرتے ہیں اور ایجنڈے کی تیاری کے لیے سول اور فوجی حکام میں روابط کے بعد اجلاس کا حتمی نوٹیفیکشن جاری کیا جاتا ہے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس سے ایک دن پہلے تک کابینہ کمیٹی کے اجلاس کا ایجنڈا طے نہیں کیا جا سکا ہے۔ فوجی قیادت طالبان کے ساتھ مذاکرات کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔

اہم عہدے پر تعینات ایک فوجی افسر کا کہنا ہے کہ فوج طالبان کے ساتھ اس موقع پر مذاکرات کے حق میں نہیں ہے لیکن وہ اس بارے میں سیاسی قیادت کے فیصلے پر اثر انداز بھی نہیں ہونا چاہتی۔

افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کی جانب سے مذاکرات شروع کرنے کی یہ پیشکش ’بے موقع اور گمراہ کن‘ ہے جس کا پاکستانی ریاست کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

اس افسر کا البتہ کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے اور امکان یہی ہے کہ اعلیٰ فوجی قیادت اس معاملے میں اپنی رائے ’محفوظ‘ رکھے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔