کراچی میں ’تین نشانہ بازوں نے نوے قتل کیے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 فروری 2013 ,‭ 11:28 GMT 16:28 PST

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس دو ہزار تین سو افراد کو قتل کیا گیا

پاکستان کے تجارتی شہر کراچی میں تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوے افراد کو صرف تین پستولوں سے قتل کیا گیا اور ہلاک ہونے والوں میں شیعہ، سنی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن شامل ہیں۔

صوبۂ سندھ کے محکمۂ داخلہ کے معاون خصوصی شرف الدین میمن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ چند واقعات میں نہ صرف مشترک اسلحہ پایا گیا ہے بلکہ جرم کرنے کی حکمت عملی میں بھی مماثلت پائی گئی ہے۔

کراچی میں پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس دو ہزار تین سو افراد کو قتل کیا گیا جب کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں اٹھارہ سو افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔

شرف الدین میمن کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس میں فورنزک ڈیپارٹمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے جس نے اب تک گیارہ سو کے لگ بھگ قتل کی وارداتوں کا جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے معائنہ کیا ہے۔

پولیس کے اعداو شمار

کراچی میں پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس دو ہزار تین سو افراد کو قتل کیا گیا جبکہ سنہ دو ہزار گیارہ میں اٹھارہ سو افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔

کراچی پولیس کے چند افسران جن میں ڈی آئی جی، ایس پیز اور دیگر اعلیٰ افسران شامل ہیں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ فورنزک جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوے افراد کے قتل میں نائن ایم ایم کے صرف تین پستول استعمال کیے گئے ہیں، جس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صرف تین نشانہ بازوں نے ہی نوے افراد کو قتل کیا۔

پولیس افسران نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ نشانہ باز عموماً جس پستول یا اسلحے پر مشق کرتے ہیں اسی کو اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ عین ممکن ہے کہ اس میں تین پستولوں کی طرح صرف تین افراد ہی ملوث ہوں۔

حیرت انگیز بات یہ سامنے آئی کہ ان تین پستولوں سے ایم کیو ایم کے ممبر صوبائی اسمبلی سید منظر امام، سعودی سفارت خانے کے اہلکار، موٹر سائیکل پر سوار شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے باپ اور ان کی پانچ سالہ بچی سمیت شیعہ، سنی، ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اراکین کو نشانہ بنایا گیا۔ان میں زیادہ تر واقعات ایسے تھے جن سے شہر میں انتشار پھیل سکتا تھا۔

"یہ معلوم کرنا کہ ان واقعات میں تین پستول استعمال کیے گئے ہیں، انتہائی آسان ہے کیونکہ ہر گولی کے خول کے پیچھے پستول یا بندوق کے ہیمر کا نشان ہوتا ہے اور ہر پستول کا یہ نشان فنگر پرنٹ کی طرح جدا ہوتا ہے جس کا جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پتا لگایا جا سکتا ہے۔"

پولیس افسران

پولیس افسران کا کہنا ہے کہ یہ معلوم کرنا کہ ان واقعات میں تین پستول استعمال کیے گئِے ہیں انتہائی آسان ہے کیونکہ ہر گولی کے خول کے پیچھے پستول یا بندوق کے ہیمر کا نشان ہوتا ہے اور ہر پستول کا یہ نشان فنگر پرنٹ کی طرح جدا ہوتا ہے جس کا جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پتا لگایا جا سکتا ہے۔

پولیس افسران کے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے صوبۂ سندھ کی وزارتِ داخلہ کے خصوصی معاون شرف الدین میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ فورنزک ڈیپارٹمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے بعد اب اس کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔

ان کے بقول کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات میں نہ صرف اسلحہ مشترک پایا گیا بلکہ ہدف بنا کر قتل کرنے کی حکمتِ عملی میں بھی یکسانیت کا عنصر نمایاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فورنزک تحقیقات کی مدد سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں تحقیقات صحیح سمت کرنے میں بھی پولیس کو مدد مل رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ملوث ملزمان انتہائی شاطر اور چست و چالاک پائے گئے ہیں۔ ایک پولیس افسر نے مولانا دین پوری اور ان کے دو ساتھیوں کی ہلاکت کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں ملوث ملزمان اعلیٰ تربیت یافتہ، چست اور بے خوف تھے حالانکہ وہ اس بات سے باخبر تھے کہ چند سو گز کے فاصلے پر رینجرز اور پولیس تعینات تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔