’خفیہ ادارے اور پولیس ناکام رہے ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 فروری 2013 ,‭ 06:27 GMT 11:27 PST

جیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ وفاق اور بلوچستان کی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکے

پاکستان کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پولیس اور خفیہ ادارے اپنا کام احسن طریقے سے سرانجام دینے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بات کوئٹہ میں سنیچر کو ہونے والے بم دھماکے کے از خود نوٹس کیس کی سماعت دوران کہی۔

اس کیس کی سماعت منگل کی صبح سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی جس کی سربراہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جبکہ بنچ کے دوسرے ممبران میں جسٹس گلزار احمد اور شیخ عظمت سعید شامل تھے۔

ابتدائی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بلوچستان کے ایڈوکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی کی وساطت سےخفیہ ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے اداروں کو اس واقعے کے متعلق رپورٹ آج ہی کے دن جمع کروانے کا کہا ہے۔

"ہزارہ ٹاؤن میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہم یہاں دھرنا دینے پر مجبو ر ہوئے ہیں۔ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف ٹارگٹ آپریشن اور کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے۔"

مجلس وحدت المسلمین اسلام آباد کے صدر ظہیر حسین

عدالت کے استسفار پر ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والوں اداروں نے کچھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جس پر بنچ میں موجود جسٹس شیخ عظمت سعید نے پوچھا کہ کیا ان گرفتار ملزمان میں سے کسی کا براہ راست اس بم دھماکے کے واقعے سے کوئی تعلق ہے؟

اس پر بلوچستان کے ایڈوکیٹ جنرل نے خاموشی اختیار کی۔

اس کیس میں ایک درخواست گزار طارق اسد نے سماعت کے دوران عدالت کو مخاطب ہو کر کہا کہ اگر آپ جمہوریت کو بچا رہے لیکن لوگوں کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کے حالات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ وہاں پر آئین کے تحت فوج کی تعیناتی ناگزیر ہو چکی ہے۔

جیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ وفاق اور بلوچستان کی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ اتنا بڑا واقعہ ہونے کے باوجود وفاق کے لوگ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔

عدالت نے وفاقی سیکٹری داخلہ اور سیکریٹری دفاع کو بھی طلب کیا ہے۔

عدالت نے مقدے کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔