کوئٹہ: میتوں کی تدفین مکمل، فائرنگ سے بھگدڑ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 فروری 2013 ,‭ 04:37 GMT 09:37 PST

سنیچر کو بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے لاشیں دفنانہ مکمل کر دیں ہیں

سانحہ کوئٹہ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے میتوں کی تدفین مکمل کردی ہے۔ اس سے پہلے جب مظاہرین احتجاج ختم کرکے میتوں کو دفنانے کے لیے قبرستان لے گئے تو وہاں پر فائرنگ سے بھگدڑ مچ گئی تھی۔

کوئٹہ کے ڈی سی او عبدالمصور کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ میتوں کی تدفین مکمل ہو چکی ہے۔

اس سے پہلے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے کوئٹہ میں فوج کی تعیناتی تک میتوں کو دفنانے سے انکار کیا تھا اور وحدت المسلمین کا ملک بھر میں دھرنے ختم کرنے کے اعلان کے باوجود ان کا دھرنا جاری تھا۔

کوئٹہ میں مقامی صحافی محمد کاظم نے بتایا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد کوئٹہ یک جہتی کونسل ، ہزارہ قومی جرگہ اور مجلسِ وحدت المسلمین نے دھرنے ختم کرنے اور لاشوں کی تدفین کا اعلان کیا تھا لیکن سنیچر کو بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے لاشیں دفنانے اور دھرنا ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک کوئٹہ کو فوج کے حوالے نہیں کیا جائے گا اس وقت تک وہ لاشوں کی تدفین نہیں کریں گے۔

لواحقین کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ ہے کہ فوج کے ذریعے ان لوگوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیے جائیں جو انہیں تشدد کی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

کوئٹہ میں منگل کو مجلسِ وحدت المسلمین کے نائب صدر علامہ امین شہیدی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومتی اعلان کے بعد بعض نوجوانوں نے اعتراض کیا تھا لیکن یہ تاثر غلط تھا کہ ہلاک شدگان کےاہلخانہ نےدھرنا ختم کرنے کا فیصلہ قبول نہیں کیا۔

اس سے پہلے مجلسِ وحدت المسلمین نے دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن مظاہرین نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا

علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ہلاک شدگان کے لوحقین کو اعتماد میں لے کر تمام فیصلے کیے گئے اور وہاں موجود 113 ہلاک شدگان کے ورثا نے تدفین پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔

امین شہیدی نے منگل کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگرچہ مجلس کی طرف سے تین رکنی کمیٹی نے، جس کے وہ خود بھی رکن تھے، حکومتی یقین دہانی کے بعد دھرنے ختم کرنے اور بدھ کے روز لاشوں کی تدفین کروانے کا اعلان کر دیا تھا، تاہم ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نہیں مانے۔

انھوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا، ’ہماری بات سے ہلاک شدگان کے لواحقین زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، انھیں مطمئن کرنا ضروری ہے۔‘

ہمارے نمائندے کے مطابق کوئٹہ میں مجلس کے اراکین نے دھرنے کے مقام پر آ کر مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے کے لیے کہا لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک ہمارے مطالبے نہیں مانے جاتے، دھرنے جاری رہیں گے۔

علامہ امین شہیدی نے پی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ لواحقین کے دو مطالبات ہیں: کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے اور جیلوں میں بند وہ مجرم جن کی پھانسی کے حکم نامے آ چکے ہیں، ان پر عمل درآمد کیا جائے۔ علامہ امین شہیدی نے کہا تھا کہ ان مطالبات کو منوانے کے لیے حکومت سے دوبارہ بات کی جائے گی۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیرِاطلاعات قمر زمان کائرہ نے منگل کو کہا تھا کہ کوئٹہ میں کل رات سے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے جس میں 170 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ شيعہ ہزارہ برادري کے تمام جائز مطالبات مان لیے گئے ہیں اور ان سے گزارش کی ہے کہ وہ تدفین کا عمل شروع کر دیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔