سندھ میں پرانا بلدیاتی نظام بحال

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 فروری 2013 ,‭ 09:53 GMT 14:53 PST

جنرل ضیاالحق کے دور میں متعارف کرایا جانے والا بلدیاتی نظام آئین سے متصادم ہے: فیصل سبزواری

سندھ اسمبلی نے ایک بار پھر 1979 کے بلدیاتی نظام کے نفاذ کا بل منظور کر لیا ہے جس پر متحدہ قومی موومنٹ نے احتجاج کیا ہے۔

صوبے میں بلدیاتی نظام کے نفاذ پر حکمران پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے مابین گزشتہ کئی سالوں سے مذاکرات جاری تھے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے ایک ہفتہ قبل وفاقی اور صوبائی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تو حکومت نے 1979 کا قانون پیش کر کے منظور کر لیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کا مطالبہ رہا ہے کہ 2001 کے بلدیاتی نظام کو بحال کیا جائے، حکومت نے 2001 اور 1979 کے بلدیاتی نظام کو یکجا کر کے 2012 میں ایک قانون نافذ کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور خیرپور کو میٹروپولیٹن کا درجہ دیا گیا تھا۔

حکومت کی اتحادی جماعتوں، مسلم لیگ فنکشنل، عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پیپلز پارٹی نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا جبکہ قوم پرست جماعتوں نے بھی اس بنیاد پر صوبہ بھر میں راہ ہموار کی۔

صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے جمعرات کو بل اسمبلی میں پیش کیا جسے اراکین کی اکثریت نےمنظور کر لیا۔

ایم کیو ایم کے اراکین نے اس موقع پر نعرے بازی کی اور واک آؤٹ کیا۔

ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ سندھ کے عوام کو یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ پیپلز لوکل باڈیز آرڈیننس لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے نافذ کیا گیا۔

انہوں نے کہا ’جب تک متحدہ اتحاد میں شامل تھی اس وقت تک یہ بہترین قانون تھا اور جب سے ایم کیو ایم نے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کیا تو یہ کالا قانون ہوگیا۔‘

فیصل سبزواری نے کہا کہ جنرل ضیاالحق کے دور میں متعارف کرایا جانے والے 1979 کا بلدیاتی نظام آئین سے متصادم ہے۔

سینیئر صوبائی وزیر پیر مظہرالحق کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے سندھ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور انہیں ان کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔