حکومت ہزارہ ٹاؤن واقعے کی ذمہ دار: چیف جسٹس

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 فروری 2013 ,‭ 13:49 GMT 18:49 PST
ہزارہ افراد کی تدفین کی فوٹو

عدالت کا کہنا ہے کہ ہزارہ ٹاؤن واقعہ سے متعلق کسی نہ کسی کو ذمہ دار ہونا پڑے گا

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد ہزارہ ٹاؤن واقعہ کی ذمہ داری وزیر اعظم اور صوبے کے گورنر پر عائد ہوتی ہے کیونکہ فیڈریشن نے صوبے میں گورنر راج نافذ کیا ہے ۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل نو کے تحت عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری فیڈریشن پر عائد ہوتی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سانحہ ہزارہ ٹاون سے متعلق از خودنوٹس کی سماعت کی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ہزارہ ٹاون واقعہ سے متعلق کسی نہ کسی کو تو ذمہ دار ہونا پڑے گا۔

سٹی چیف پولیس افسر کوئٹہ میر زبیر نے عدالت کو بتایا کہ خفیہ اداروں کی طرف سے اس واقعہ سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کی طرف سے سیکورٹی الرٹ تو جاری کیے گئے تھے لیکن اُس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ شدت پسند ہزارہ ٹاؤن واقعہ کی منصوبہ بندی کر ر ہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ سیکرٹری دفاع نے اس واقعہ میں ناکامی کی ذمہ داری سویلین حکومت پر عائد کی تھی اور موقف اختیار کیا تھا کہ خفیہ اداروں نے دس جنوری جیسے ممکنہ واقعہ کے رونما ہونے کے بارے میں مقامی انتظامیہ کو خبردار کیا تھا۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ سولہ فروری کے واقعہ کے بارے میں حکام سے انٹیلیجنس کا تبادلہ کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے سی سی پی او سے استفسار کیا کہ شہر میں پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی کے باوجود کیسے شدت پسند ایک ہزار کلو گرام بارود سے بھرا ہوا پانی کا ٹینکر لے جانے میں کامیاب ہوئے۔

میر زبیر کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں نے کارروائی کے لیے نیا طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ علاقے میں جان بوجھ کر پانی کی قلت پیدا کی گئی جس کے بعد یہ کاروائی عمل میں لائی گئی۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ اس واقعہ میں استعمال ہونے والا پانی کا ٹینکر پولیس کی تین چیک پوسٹوں سے گُّزرا اور چونکہ علاقے میں پانی کی کمی تھی اس لیے کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں تیراسی افراد ہلاک ہوئے جبکہ کوئٹہ سے رکن قومی اسمبلی ناصر علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس واقعہ میں چھبیس افراد کی تو لاشیں بھی نہیں ملیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ فرنٹئیر کور کے سربراہ میجر جنرل عبیداللہ خٹک آپریشنل کلارروائیوں میں مصورف تھے اس لیے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔ سپریم کورٹ نے پولیس افسر اور ایف سی کے سربراہ سے دس جنوری اور سولہ فروری کے واقعات سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

اس از خود نوٹس کی سماعت چھبیس فروری تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔