’گورنر راج 14 مارچ سے پہلے اٹھایا جائے گا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 فروری 2013 ,‭ 13:05 GMT 18:05 PST

بلوچستان کے لیے نئے وزیر اعلی کا انتخاب صوبائی اسمبلی کرے گی، فاروق نائیک

پاکستان کے وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ بلوچستان میں چودہ مارچ سے پہلے گورنر راج اٹھا لیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے یہ بات جمعہ کو پارلیمان ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

فاروق ایچ نائیک کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے سپیکر اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے تاریخ کا اعلان کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لیے نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب صوبائی اسمبلی کرے گی۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تمام اقدامات آئین کے تحت اٹھائے جائیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد چودہ جنوری کو صوبہ بلوچستان میں دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا جس کے بعدگورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی صوبے کے چیف ایگزیکٹو بن گئے تھے۔

صدرِ پاکستان نے وزیراعظم کی جانب سے آئین کی دفعہ دو سو چونتیس کے تحت بھیجی گئی سمری پر دستخط کیے تھے جس کے بعد گورنر راج عملی طور پر نافذ ہوگیا تھا۔

وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے تیرہ جنوری کی رات کوئٹہ میں دھرنے پر بیٹھے مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی صوبائی حکومت کی برطرفی اورگورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم نے گورنر راج کے نفاذ کا اعلان اتوار کو کوئٹہ میں ساٹھ گھنٹے سے پچھہتر میتوں سمیت دھرنا دینے والے مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد کیا تھا۔

پنجابی امام بارگاہ میں ہونے والی ملاقات میں انہوں نے پہلے ہلاک شدگان کے لیے فاتحہ خوانی کی جس کے بعد انہیں ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر بریفنگ دی گئی تھی۔

بریفنگ کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئین کے آرٹیکل دو سو چونتیس کے نفاذ کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تحلیل کر دی جائے گی اور ’جب آپ صبح اٹھیں گے تو صوبے میں گورنر راج نافذ ہوگا اور گورنر ذوالفقار مگسی صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہوں گے‘۔

یہ دھرنا علمدار روڈ پر ہونے والے دوہرے دھماکوں میں نوے سے زائد شیعہ افراد کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا اور ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سمیت ہزاروں افراد سخت سرد موسم میں پچھہتر میتیں ساتھ لیے اسّی گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی دھرنا دیے بیٹھے رہے تھے۔

علمدار روڈ پر دھرنے میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد شامل رہی اور یہ افراد بلوچستان کی موجودہ حکومت کے خاتمے، کوئٹہ شہر کی سکیورٹی کا انتظام فوج کے حوالے کرنے اور حملہ آوروں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے مطالبات کر رہے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔