فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث تنظیمیں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 فروری 2013 ,‭ 03:04 GMT 08:04 PST

انجمن سپاہ صحابہ

پاکستان میں فرقے کے نام پر تشدد اور دہشت گردی کی بنیاد رکھنے میں اس تنظیم کا کردار سب سے اہم گردانا جاتا ہے۔

سپاہ صحابہ کا قیام ایرانی انقلاب کے ردعمل کے طور پر مبینہ طور پر پاکستانی فوجی صدر جنرل محمد ضیا الحق کی اسلامائزیشن کی پالیسی کے نتیجے میں انیس سو پچاسی میں عمل میں آیا۔

باور کیا جاتا ہے کہ ایران میں ’شیعہ انقلاب‘ کے اثرات سے خطے کو ’محفوظ‘ رکھنے میں سعودی عرب کی دلچسپی سے بھی فائدہ اٹھایا گیا اور ابتدائی طور پر اس تنظیم کے قیام کے لیے سعودی فنڈنگ کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

لاہور کی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر طاہر کامران جنہوں نے سپاہ صحابہ کے قیام پر خاصی تحقیق کر رکھی ہے، کہتے ہیں ’فرقہ واریت کے بارے میں جتنی بھی تحقیق ہوئی اس میں اس عفریت کی پیدائش کے تانے بانے ضیا الحق کی اسلامائزیشن، افغان جنگ اور دیوبندی مدرسوں کے فروغ سے جڑتے ہیں۔‘

انیس سو اناسی میں پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی بنیاد پر علامہ ساجد نقوی نے ’تحریک نفاذ فقہ جعفریہ’ کی بنیاد رکھی تو جنوبی پنجاب کے شہر جھنگ میں دیوبندی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے مولانا حق نواز جھنگوی نے انہیں چیلنج کیا۔ یہ سلسلہ جلد ہی ایک مہم میں تبدیل ہوگیا جو آڈیو کیسٹس کے ذریعے چلائی جا رہی تھی۔

مناظرے اور مباہلے کے چیلنجوں پر مبنی لفظوں کی یہ جنگ اس وقت خونی معرکے کی بنیاد بن گئی جب انیس سو اٹھاسی میں افغانستان سے ملحق قبائلی علاقے پارہ چنار میں تحریک جعفریہ پاکستان کے رہ نما علامہ عارف حسین الحسینی کو قتل کر دیا گیا جس کے ڈیڑھ سال بعد انیس سو نوے میں سپاہ صحابہ کے رہ نما مولانا حق نواز جھنگوی کو بم حملے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

مولانا اعظم طارق تین بار جھنگ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے

مبینہ طور پر حق نواز جھنگوی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے لاہور میں تعینات ایرانی قونصلر جنرل صادق گنجی کو قتل کیا گیا۔ صادق گنجی کے قتل کی ذمہ داری سپاہ صحابہ کے رکن ریاض بسرا پر عائد کی گئی۔

ریاض بسرا کے خلاف پنجاب پولیس نے راولپنڈی میں ایرانی فضائیہ کے زیرِ تربیت عملے پر حملے کے مقدمے میں بھی تفتیش کی۔

سپاہ صحابہ کے بانی قیادت جس میں مولانا حق نواز جھنگوی کے بعد مولانا ایثار الحق قاسمی، مولانا ضیاء الرحمان فاروقی اور مولانا اعظم طارق نمایاں تھے، شیعہ سنی تنازع کی بھینٹ چڑھے۔

سپاہ صحابہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ تھی۔ اس کے مرکزی رہنما مولانا ایثارالقاسمی ایک بار اور مولانا اعظم طارق تین بار جھنگ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

اگست دو ہزار ایک میں فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے سپاہ صحابہ سمیت سات تنظیموں کو خلاف قانون قرار دے دیا لیکن نومبر دو ہزار دو میں جیل میں بند مولانا اعظم طارق کو اس لیے رہا کر دیا گیا تا کہ وہ وزارت عظمی لیے صدرمشرف کے حمایت یافتہ امیدوار میر ظفر اللہ جمالی کو واحد اکثریتی ووٹ دے سکیں۔

ڈاکٹر طاہر کامران کا کہنا ہے کہ جب سپاہ صحابہ پر سرکاری طور پر پابندی عائد کی گئی اس وقت تک یہ تنظیم اس قدر مضبوط ہو چکی تھی کہ عملی طور پر ملک کے چوہتر اضلاع پر اس کا کنٹرول تھا جہاں مقامی انتظامیہ اس تنظیم کے سامنے بے بس دکھائی دیتی تھی۔

اس تنظیم کے تحصیل کی سطح پر دو سو پچیس یونٹس بن چکے تھے۔ غیر ملکی سطح پر یہ تنظیم اپنے غیر ملکی سرپرستوں کے طفیل اس قدر پھیل چکی تھی کہ سعودی عرب سے کینیڈا تک سترہ ملکوں میں اس کا اثر و نفوذ پایا جاتا تھا۔ سپاہ صحابہ کے تربیت یافتہ اور پیشہ ور کارکنوں کی تعداد چھ ہزار تک پہنچ چکی تھی جبکہ رجسٹرڈ ورکرز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔

لشکر جھنگوی


دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق کے باعث جلد ہی لشکر جھنگوی اور افغان طالبان کے رابطے اور تعاون کی اطلاعات سامنے آنے لگیں جس کا مطلب یہ تھا کہ اب لشکر جھنگوی کے اہداف تبدیل ہو رہے ہیں، اس کا ثبوت آنے والے دنوں میں تب ملا جب لشکر جھنگوی نے کراچی میں غیر ملکی تیل کمپنی کے چار امریکی کارکنوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔

لشکر جھنگوی کی امریکہ دشمنی کے معاملے میں مزید پیش رفت تب ہوئی جب جنوری دو ہزار دو لشکر جھنگوی کے جنگجو امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغواء اور پھر قتل میں بھی ملوث پائے گئے۔

پھر یہ سلسلہ پھیلتا چلا گیا، اسی سال مارچ میں شیریٹن ہوٹل کراچی کے سامنے گیارہ فرانسیسی انجیئنروں کی ہلاکت ہو یا اسلام آباد کے سفارتی علاقے میں پروٹسٹنٹ چرچ پر حملہ، تفتیش کرنے والے اداروں نے لشکر جھنگوی کو ہی ملوث پایا۔

چرچ حملہ کیس میں ملوث ملزموں کے بارے میں پاکستانی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے چار ملزموں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے افغانستان پر امریکی حملے کے ردعمل میں چرچ پر حملہ کیا تھا۔

اگست دو ہزار ایک میں مشرف حکومت نے لشکر جھنگوی پر پابندی عائد کر دی۔ بعض اطلاعات کے مطابق لشکر جھنگوی کے اندر بھی اکتوبر دو ہزار دو میں دو دھڑے وجود میں آ گئے تھے اس بار ریاض بسرا کا مؤقف تھا کہ مشرف حکومت کے دوران بھی دہشتگردی کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں جبکہ مخالف دھڑے کے راہ نما قاری عبدالحئی کا کہنا تھا کہ فوجی حکومت کے دور میں زیرِ زمین چلے جانا زیادہ بہتر ہے۔

بہرحال تنظیم کے دو ٹکڑے ہو گئے۔مئی دو ہزار دو میں ریاض بسرا پنجاب کے علاقے وہاڑی میں اس وقت مقامی دیہاتیوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں اپنے تین ساتھیوں سمیت مارا گیا جب ایک شیعہ رہنما پر حملہ کرنے کے لیے وہاں پہنچا تھا۔

اس وقت تک ملک اسحٰق ایک سو زائد افراد کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جا چکے تھے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ وہ جیل میں رہ کر بھی اپنے ساتھیوں کی مؤثر طور پر راہنمائی کرتے رہے۔

اس کا عملی ثبوت اس وقت ملا جب سنہ دو ہزار نو میں فوجی صدر دفاتر پر حملے کے دوران وہاں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے حکومت نے لاہور کی جیل میں قید ملک اسحٰق کو راتوں رات راولپنڈی منتقل کیا اور اغوا کاروں کے ساتھ ان کے مذاکرات کروائے گئے۔ یہ مذاکرات کامیاب تو نہ ہو سکے لیکن یہ بات واضح ہو گئی کہ ملک اسحٰق جیل میں رہ کر بھی ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث رہے۔

گزشتہ سال عدالت سے ضمانت منظور ہونے کے بعد انہوں نے تنظیم اہل سنت والجماعت (سابق سپاہ صحابہ) میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے لشکر جھنگوی سے اعلان لا تعلقی کر دیا۔

یہ تنظیم اس کے بعد بھی خاصی فعال ہے اور حالیہ عرصے میں شیعہ اور خاص طور پر ہزارہ شیعہ پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔ تاہم اس کی موجودہ قیادت کے بارے میں انٹیلی جنس ادارے بھی زیادہ آگاہی نہیں رکھتے۔

تحریک طالبان پاکستان

پاک افغان سرحد پر قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے قیام کا اعلان دسمبر دو ہزار سات میں کیا گیا جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی لال مسجد میں فوجی آپریشن کے اثرات ابھی ذہنوں پر نمایاں تھے اور جنرل مشرف کی فوجی حکومت کے خلاف شہری علاقوں میں بھی نفرت انتہا پر تھی۔

بیت اللہ محسود کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان میں شامل جنگجو افراد اور تنظیمیں پہلے بھی اپنے اپنے علاقے میں سرگرم تھے لیکن ایک تنظیم کی چھتری تلے ان کا اکٹھ ایک نئی بات تھی۔ تحریک طالبان پاکستان کے قیام کے بعد افغانستان کے اندر امریکی و اتحادی افواج پر حملوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں، پاکستان کے شہری علاقوں میں بم دہماکوں اور خود کش حملوں، کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ جس کے خاتمے کے ابھی تک کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

تحریک طالبان پاکستان کے پہلے امیر بیت اللہ محسود نے پاکستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے جنگجوؤں کے حوالے سے ہی کہا تھا کہ ’خود کش حملہ آور ہمارے ایٹم بم ہیں‘۔

بیت اللہ محسود پانچ اگست دو ہزار نو کو امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تو حکیم اللہ محسود نے تحریک کی قیادت سنبھالی اور جنگ و جدل کی سرگرمیوں میں بے پناہ تیزی پیدا کر دی۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی ایک سے زائد بار خبریں ذرائع ابلاغ کی زینت بن چکی ہیں لیکن ابھی تک ان میں صداقت کا پہلو مفقود رہا۔

تحریک طالبان پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی اور دیگر علاقوں میں شیعہ مسلک کے افراد پر حملوں میں ملوث قرار دی جاتی ہے اور اس طرح کی کئی بڑی کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کر چکی ہے۔

تحریک طالبان پنجاب

پانچ اپریل دو ہزار نو کو صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں امام بارگاہ پر حملے میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ اگلے روز اس حملے کی ذمہ داری جس تنظیم نے قبول کی اس کا نام اجنبی تو نہیں البتہ حیران کن ضرور تھا۔ جنوبی پنجاب کے لہجے میں گفتگو کرنے والے ایک شخص نے بی بی سی کو فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور خود کو ’تحریک طالبان پنجاب‘ کا ترجمان قرار دیا۔

اس وقت تک پنجاب میں کئی دہشت گرد حملوں میں تحریک طالبان پاکستان کے ملوث ہونے کا پتہ چل چکا تھا جس میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ بھی شامل تھا۔ چکوال کا حملہ غالباً وہ پہلی کارروائی تھی جس کی باضابطہ ذمہ داری تحریک طالبان پنجاب نے قبول کی۔

اس سے پہلے پنجابی طالبان کا ذکر تو آتا رہا تھا۔ پنجابی طالبان پاکستان کے سب سے بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والے ان جنگجوؤں کو کہا جاتا تھا جو پاکستان کے قبائلی علاقے یا صوبہ خیبر پختونخوا میں پشتون طالبان کے شانہ بشانہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف نبرد آزما تھے۔ یہ لوگ اس علاقے میں بھی گروہوں کی شکل میں رہتے تھے یوں ان کی مقامی افراد کے مقابلے میں الگ شناخت بن چکی تھی۔

صوبہ پنجاب میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث بعض افراد نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ان کا تعلق تحریک طالبان پنجاب سے ہے۔

اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کے بعد ان شدت پسندوں کو توجہ اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کی جانب ہوئی۔ بڑی تعداد میں یہ جنگجو قبائلی علاقوں کو چھوڑ کر صوبہ پنجاب کی طرف آئے اور اس علاقے میں ان کی کارروائیوں میں اچانک نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی۔ جب یہ کارروائی زیادہ تعداد اور زیادہ منظم انداز میں ہونے لگیں تو تحریک طالبان پنجاب کا نام بھی کثرت سے استعمال ہونے لگا۔

اس گروہ پر تحقیق کرنے والے پروفیسر خادم حسین کہتے ہیں کہ تحریک طالبان پنجاب کے تنظیمی ڈھانچے یا اس کی قیادت کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ افعانستان اور پھر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم رہنے والے پنجابی طالبان ہی دراصل تحریک طالبان پنجاب کے بانی ہیں، جنکی تعداد ڈاکٹر خادم حسین کے بقول آٹھ سے دس ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔

تحریک طالبان پنجاب کے تنظیمی ڈھانچے اور اس کی ساخت کے بارے میں بعض بنیادی معلومات پاکستانی تفتیشی اداروں کے پاس اس وقت آئیں جب صوبہ پنجاب میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث بعض افراد نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ان کا تعلق تحریک طالبان پنجاب سے ہے۔

پاکستانی تفتیش کار کہتے ہیں کہ ان کی تشویش اس وقت بہت بڑھ گئی جب انہیں معلوم ہوا کہ تحریک طالبان پنجاب دراصل صوبہ پنجاب میں کئی سالوں سے سرگرم مختلف شدت پسند تنظیموں کا ایک ملغوبہ ہے۔

اس تفتیش کے مکمل ہونے کے بعد وفاقی وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں تحریک طالبان پنجاب کے لوگ ملوث ہیں۔ ’یہ گروپ پاکستان میں کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کی مشترکہ کاوش ہے جس میں سپاہ صحابہ، لشکر طیبہ، لشکر جھنگوی، حرکت المجاہدین اور حرکت الانصار وغیرہ کے کارکن شامل ہیں۔‘

سپاہ محمد

سپاہ محمد کا قیام انیس سو ترانوے میں عمل میں آیا جب دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم انجمن سپاہ صحابہ اہل تشیع کو نظریاتی و فکری محاذ پر چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے علماء اور مساجد پر حملے کر رہی تھی۔

بظاہر انجمن سپاہ صحابہ کا قیام تحریک نفاظ فقہ جعفریہ کے جواب میں تھا لیکن جلد ہی اعتدال پسند شیعہ رہنماؤں سے بغاوت کر کے ایک شدت پسند گروپ نمودار ہوا اور غلام رضا نقوی کی قیادت میں سپاہ محمد کے نام سے تنظیم قائم کر لی، جس کے بعد جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

انیس سو چھیانوے میں سپاہ محمد کے سالار اعلیٰ غلام رضا نقوی کو گرفتار کر لیا گیا ان پر قتل و اقدام قتل کے متعدد وارداتوں کا الزام تھا اور حکومت نے ان کے سر کی قیمت بیس لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔

ان کی عدم موجودگی میں علامہ مرید عباس یزدانی اور منور عباس علوی نے سپاہ محمد کی قیادت سنبھالی۔ ستمبر انیس سو چھیانوے میں علامہ مرید عباس یزدانی کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر قتل کر دیا گیا اور تنظیم کی قیادت منور عباس علوی اور جیل میں بند غلام رضا نقوی کے ہاتھ میں چلی گئی۔

جنوری انیس سو ستانوے میں سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا ضیاءالرحمان فاروقی کو بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا، اس دوران سپاہ محمد میں ایک نئے شدت پسند گروپ کے ابھرنے کی اطلاعات بھی سنی گئیں جن کی قیادت میجر ریٹائرڈ اشرف علی شاہ کر رہے تھے۔

اگست دو ہزار ایک میں مشرف حکومت نے دیگر جنگجو گروپوں کے ساتھ سپاہ محمد پر بھی پابندی عائد کر دی اور ایجنسیوں نے جنگجو تنظیم کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔