’ایک ہزار سے زائد شیعہ ہزارہ ہلاک، دو لاکھ نقل مکانی پر مجبور‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 فروری 2013 ,‭ 17:31 GMT 22:31 PST

لاکھوں ہزارہ نقل مکانی پر مجبور

شیعہ ہزارہ آبادی کو زیادہ تر کوئٹہ اور مستونگ میں نشانہ بنایا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں رہائش پذیر ہزارہ برادری اپنے عقیدے اور نسل دونوں کی بنیاد پر نشانہ بنائی جا رہی ہے اور اب تک جہاں ایک ہزار سے زائد شیعہ ہزارہ اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں وہیں ہزارہ تنظیموں کے مطابق دو لاکھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر ملک کے دیگر علاقوں یا پھر بیرونِ ملک پناہ لی ہے۔

پاکستان میں حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم ادارے ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے مطابق 1999 سے 2012 تک تیرہ برس کے عرصے میں آٹھ سو شیعہ ہزارہ ہلاک کیے گئے جبکہ رواں برس کے ابتدائی چند ہفتوں میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں دو سو سے زائد افراد کی جان گئی۔

کوئٹہ میں قیام پذیر ہزارہ رہنما عبدالقیوم چنگیزی کا کہنا ہے کہ جہاں ہلاک ہونے والے ہزارہ افراد میں سے اسّی فیصد اپنے عقیدے کی بنا پر نشانہ بنائے جاتے ہیں وہیں بیس فیصد ہلاکتوں کی بنیاد نسلی ہے۔

ہزارہ برادری کی تنظیم ہزارہ قومی جرگہ اور شیعہ تنظیم قومی یکجہتی کونسل کے اعدادوشمار کے مطابق جان و مال کو درپیش خطرات کی وجہ سے 1999 سے لے کر اب تک تقریباً دو لاکھ ہزارہ بلوچستان چھوڑ کر پاکستان کے دیگر شہروں میں منتقل ہوئے یا پھر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔


نقل مکانی کرنے والے ہزارہ خود تو شہر چھوڑ آئے ہیں لیکن اب انہیں یہ خوف ستاتا رہتا ہے کہ پیچھے رہ جانے والے نہ جانے کب نشانہ بن جائیں۔

زینب خود تو اسلام آباد آ گئیں تاہم ان کی والدہ اور بہن کوئٹہ میں ہی ہیں۔ ’میری بوڑھی ماں اور اکیس سالہ بہن اکیلے رہنے پر مجبور ہیں کیونکہ ہم نے اپنے دونوں بھائیوں کو پاکستان سے باہر بھجوا دیا ہے۔‘

1999 سے 2012 تک تیرہ برس کے عرصے میں آٹھ سو شیعہ ہزارہ ہلاک کیے گئے

زینب پاکستان سے باہر چلے جانے کے باوجود اپنے بھائیوں کے بارے میں اس خدشے کے تحت بات کرنے کو تیار نہ تھیں کہ انہیں پاکستان سے باہر بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یہ خوف ایسا ہے کہ پاکستان سے ہزاروں میل دور چلے جانے کے باوجود ہزارہ اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ پچیس سالہ بتول گذشتہ سال امریکہ پہنچیں۔ انہوں نے اپنے خاندان کو نہیں بتایا تھا کہ وہ یہاں مستقل رہنے کے لیے آئی ہیں۔

ڈیڑھ ماہ تک دربدر ٹھوکریں کھانے کے بعد انہوں نے نیویارک کے علاقے کوئینز میں خواتین کے لیے قائم کردہ مسلم شیلٹر میں رہائش اختیار کی۔ وہ اب سیاسی پناہ کے حصول کے لیے کوشاں ہیں مگر جنہیں پیچھے چھوڑ آئیں انہیں بھولنا بتول کے لیے بہت مشکل ہے۔

’یہ میرے لیے بہت مشکل فیصلہ تھا۔ میں جب خبروں میں کوئٹہ کے ہزارہ قبرستان کی تصویریں دیکھتی ہوں، تو تسلیم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ اتنے سارے لوگوں کو میں جانتی تھی وہ اب ہم میں نہیں ہیں۔‘

ایچ آر سی پی کی سربراہ زہرہ یوسف کے مطابق بلوچستان میں شیعہ ہزارہ آبادی کو زیادہ تر کوئٹہ اور مستونگ میں نشانہ بنایا گیا ہے اور ان اضلاع میں کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کی واضح موجودگی ہے۔

رواں برس کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں پہلے علمدار روڈ اور پھر کرانی روڈ پر ہونے والے دونوں بڑے دھماکوں کی ذمہ داری بھی لشکرِ جھنگوی نے ہی قبول کی ہے۔

بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اکبر درانی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان دو واقعات کو روکنے میں انٹیلیجینس کی کمزوری ضرور تھی۔’ان تمام دنوں میں جب ہائی الرٹ رہا تو کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن اس بار دہشت گردوں نے بارودی مواد تیار کرنے کے لیے نیا طریقہ استعمال کیا، جس کی ہمارے پاس معلومات نہیں تھیں۔‘

اس بار دہشت گردوں نے بارودی مواد تیار کرنے کے لیے نیا طریقہ استعمال کیا، جس کی ہمارے پاس معلومات نہیں تھیں: اکبر درانی

اس سوال پر کہ کیا یہ کمزوری کی بجائے ناکامی نہیں، انہوں نے کہا ’جائز سوال ہے کہ خفیہ ایجنسیاں کہاں تھیں۔ دراصل ہم ایک واقعے کو دیکھ رہے ہیں، ان نو واقعات کو نہیں دیکھتے جو روکے گئے۔ ہم نے شہریوں کو ان ممکنہ واقعات سے محفوظ رکھا ورنہ اس سے کئی گنا زیادہ نقصان ہوتا۔اس طرح ہم ایجنسیوں کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔‘

ہزارہ رہنما بھی ان دھماکوں کو صرف انٹیلیجنس کی ناکامی قرار دینے کے حق میں نہیں۔ اسلام آباد میں مقیم نوجوان ہزارہ رہنما سجاد چنگیزی کا کہنا ہے کہ ’ہم بار بار کہتے رہے ہیں کہ یہ ایک ستون کی ناکامی نہیں ہے۔ پولیس انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہتی ہے، عدلیہ بھی انہیں سزا دینے میں ناکام ہے۔ اسمبلیوں میں قانون سازی نہیں ہوتی اور خفیہ ادارے ان کو چھوٹ دیتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر پاکستانی ریاست اسی طرح نااہل رہی، تو بلوچستان سے ایک اقلیتی برادری کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ ہزارہ قبیلے کی وجود کو خطرہ لاحق ہے تاہم، ہم آخری دم تک پرامن طریقے سے مزاحمت کریں گے۔‘

ٹارگٹڈ آپریشنز جاری، حالات بدستور کشیدہ

سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی شفافیت کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چند ہفتوں کے دوران دو بڑے دھماکوں میں دو سو سے زائد شیعہ ہزارہ افراد کی ہلاکت کے بعد ٹارگٹڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے اور سکیورٹی فورسز نے جمعہ کو ایک کارروائی میں مزید دو مشتبہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث تھے جبکہ ان ہلاکتوں پر مقامی آبادی اور تنظیم اہل سنت والجماعت کے کارکنوں نے لاشوں کے ساتھ احتجاجی دھرنا بھی دیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے یہ آپریشن کرانی روڈ پر سولہ فروری کو ہوئے بم دھماکے میں بانوے شیعہ ہزارہ افراد کی ہلاکت اور ان کی لاشوں کے ساتھ جاری رہنے والے چار روزہ احتجاج کے بعد وزیراعظم پاکستان کے احکامات پر شروع ہوا تھا۔

اب تک اس سلسلے میں کوئٹہ اور مضافات میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد افراد حراست میں لیے جا چکے ہیں۔

سکیورٹی فورسز کی ان کارروائیوں کی شفافیت کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انیس فروری کی کارروائی میں ہلاک کیے جانے والے چار افراد میں سے ایک شاہ ولی کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ وہ شیعہ ہزارہ افراد پر حملوں کا منصوبہ ساز تھا۔ لیکن ان کے والد مکھن خان نے بی بی سی اردو سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ شاہ ولی سمیت ان کے دو بیٹوں کو تو دسمبر میں ہی فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نےگھر سے بغیر کوئی وجہ بتائے حراست میں لیا تھا۔

مکھن خان نے کہا ’رات چار بجے ایف سی اہلکار چودہ گاڑیوں میں آئے اور بیٹوں کو لے گئے۔ ایک بیٹے کے بارے میں اب تک نہیں معلوم کہاں ہے۔ ہمیں کہا گیا کہ ہم خاموش رہیں اور حراست کی وجہ نہیں بتائی۔ ہم کیا کرتے چپ کر گئے۔‘

وزارت داخلہ بلوچستان کے سیکریٹری اکبر درانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہ ولی کے والد کے موقف کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات محض ابہام پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔’ہر بات قانون کے مطابق ہو رہی ہے اور اگر ایسے الزامات ہیں تو ان کی بھی تحقیقات ہوں گی۔‘

اہلِ سنت و الجماعت کے مظاہرے میں شامل کچھ افراد مسلح بھی تھے

تنظیم اہل سنت و الجماعت نے جمعہ کو کوئٹہ کے علاقے نواہ کلی میں دو مشتبہ افراد کی ہلاکت کے خلاف ان کی لاشوں کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کیا۔

یہ افراد گورنر ہاؤس تک جانا چاہتے تھے لیکن انہیں پہلے ہی روک لیا گیا۔ ان کا الزام تھا کہ ایف سی نے ان افراد کو رات گھروں سے نکال کر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا حالانکہ انہوں نے کوئی مزاحمت بھی نہیں کی۔

مظاہرین کی قیادت جماعت کے صوبائی صدر قاری عبدالولی فاروقی کر رہے تھے۔ مظاہرین میں شامل کچھ افراد مسلح بھی تھے جبکہ اکثر نوجوانوں نے چہروں پر نقاب لگا رکھے تھے۔

ہزارہ برادری کا بھی کہنا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل احمد علی کوہزاد کا کہنا تھا کہ حکام نے انہیں مارے جانے والوں یا حراست میں لیے جانے والوں کے بارے میں معلومات نہیں دی ہیں لیکن وہ ان کارروائیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ’اگر موثر کارروائیاں نہ ہوئیں تو ہم اپنا احتجاج دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔‘

اسی امام بارگاہ میں موجود پسماندگان میں سلمان علی بھی شامل ہیں جن کا نو سالہ بیٹا محمد موسیٰ کرانی روڈ پر باپ کی دوکان کی رکھوالی کرتے کرتے ہمیشہ کے لیے انہیں چھوڑ گیا۔

سلمان دوکان پر موسی کو چھوڑ کر نماز ادا کرنے گئے تھے اور ان کے مطابق جب وہ واپس آئے تو لوگ موسیٰ کی لاش اٹھا کر لے جا چکے تھے۔’میرے بیٹے کا کیا قصور تھا؟ ہمارا کیا قصور تھا۔‘

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔