’کہاں کی خوشیاں، شہر کی گلیاں لہو لہو ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 فروری 2013 ,‭ 13:52 GMT 18:52 PST

’اجاڑ راستے، عجیب منظر، ویران گلیاں، بازار بند ہیں۔ کہاں کی خوشیاں، شہر کی گلیاں لہو لہو ہیں۔‘

کوئٹہ میں گزشتہ ماہ دہشت گردی کے واقعات کے ردِعمل میں ہونے والے ایک دھرنے میں بلوچ طلبہ کا یہ قوم کے نام خط پڑھا گیا۔ اس کی گونج پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ صرف چالیس روز میں بلوچستان میں لگ بھگ دو سو شیعہ ہزارہ کا قتل ملک بھر میں قیامت برپا کر چکا ہے۔

انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز کے ایڈیٹر راشد رحمان کہتے ہیں کے ہزارہ برادری کے خلاف دہشت گردی کے پیچھے ایک خوفناک مقصد ہے۔

’اس تشدد کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ شیعہ ہیں اور جتنے حملے ہو رہے ہیں وہ فرقہ وارانہ ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہزارہ برادری چھوٹی ہونے کی وجہ سے آسان ٹارگٹ بنتی ہے۔‘

ہیومن رائٹس واچ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف 2012 میں ایک سو پچیس سے زیادہ شیعہ ہزارہ دہشت گردی کی نظر ہو چکے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے پارلیمنٹ میں بیان میں کہا کہ صوبہ بلوچستان کی انتظامیہ کو کیرانی روڈ دھماکے کی پیشگی اطلاع دی تھی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر یہ سانحہ روکا کیوں نہیں جا سکا؟

بی بی سی کے نامہ نگار اور مصنف محمد حنیف کے خیال میں یہی بے حسی ہمارا قومی المیہ ہے۔

’مجھے لگتا نہیں یہ روکا جا سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر صرف ایک ادارے کا قصور ہوتا تو اور بات تھی لیکن سب کے سب ادارے اور معاشرے میں یہ مفاہمت موجود ہے کے جو لوگ مارے جا رہے ہیں ان کا ہم سے کوئی تعلق ہی نہیں۔‘

"جب وہ خود ہی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں تو پکڑیں ان کو اور ان کے رہنماؤں کو۔ جب یہ سانحہ ہوا تو کریک ڈاون ہوا۔ اس سے پہلے سکیورٹی ادارے کیا کر رہے تھے؟"

راشد رحمان

دس جنوری کو کوئٹہ ہی میں دو دھماکوں میں 115 ہلاکتیں ہوئیں جن میں بیشتر ہزارہ شیعہ تھے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیرانی روڈ کے دھماکے میں پھر 89 معصوم لوگ مارے گیے۔ کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی نے دونوں واقعات کے ذمہ داری قبول کی لیکن بہت سے لوگ حکومت کی ان کے خلاف کارروائی سے مطمین نہیں۔

راشد رحمان بھی ان میں سے ایک ہیں۔’جب وہ خود ہی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں تو پکڑیں ان کو اور ان کے رہنماؤں کو۔ جب یہ سانحہ ہوا تو کریک ڈاون ہوا۔ اس سے پہلے سکیورٹی ادارے کیا کر رہے تھے؟‘

پاکستان علما کونسل کے سربراہ حافظ طاہر اشرفی کی نظر میں اصل وجہ نظام میں بنیادی کمزوریاں ہیں۔ ان کے خیال میں اس قسم کی دہشت گردی رونما ہونے سے قبل روکی جا سکتی ہے اگر عدلیہ کا کردار مستحکم ہو۔

’مجرموں کو لٹکایا جائے، قانون کی بالا دستی ہو، اگر جج حضرات اپنی ٹانگوں میں جان پیدا کریں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔ جب یہ حال ہو گا کے ایک ادارہ صرف اطلاح دے سکے اور ہمارا سسٹم اتنا کمزور ہو کے مجرم کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچا سکے تو لوگوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے۔‘

طاہر اشرفی نے بلوچستان میں شیعہ ہزارہ کے خلاف اس دہشت گردی کو بین الاقوامی قوتوں اور ان کے’پراکسی وارز‘ سے منسلک کیا۔

"دانشور اور سیاست دان تمام معاملے کو ستمبر گیارہ سے منسلک کرتے ہیں لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ سپاہ صحابہ 1984 میں بنی تھی اور ان کا ایک ہی نعرہ ہے کہ شعیہ کافر ہیں اور حکومت ان کو کافر قرار دے۔ جب حکومت نے ایسا نہیں کیا تو ان کو چن چن کر مار رہے ہیں۔"

محمد حنیف

محمد حنیف کے خیال میں بہتر ہو گا کے پہلے اپنے گھر میں جھانک لیا جائے۔ ان کے خیال میں نفرتوں کی یہ جنگ ہماری اپنی ہے اور اس حقیقت سے منہ نہیں پھیرا جا سکتا۔ ’یہ اسی سلسلے کا حصہ ہے جس کے تحت شیعہ برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، دانشور اور سیاست دان تمام معاملے کو ستمبر گیارہ سے منسلک کرتے ہیں لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ سپاہ صحابہ 1984 میں بنی تھی اور ان کا ایک ہی نعرہ ہے کہ شیعہ کافر ہیں اور حکومت ان کو کافر قرار دے۔ جب حکومت نے ایسا نہیں کیا تو ان کو چن چن کر مار رہے ہیں۔‘

محمد حنیف نے کہا کہ معاشرے میں بھی انتہا پسندی کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے انتہا پسند تنظیموں کا کام آسان ہو رہا ہے۔

’بار بار ان پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں لیکن یہ نام بدل کر پھر اپنا کام شروع کر دیتی ہیں۔ کئی محلوں میں آپ کو ایسی مسجدیں ملیں گی جہاں سے کافر کافر شیعہ کافر کے نعرے اٹھتے ہیں۔ لوگوں کو اس طرح اکسانا جرم ہے۔ لیکن میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کے کے کوئی ایسا تھانیدار نہیں جو جا کر کسی مسجد میں گھس کر ایسا کہہ سکے یا کسی جلسے کو روک سکے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔