’حوالگی کے لیے انٹرپول سے رجوع کرنے کا فیصلہ‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 فروری 2013 ,‭ 14:58 GMT 19:58 PST

رحمٰن ملک نے کہا کہ طالبان جب کمزور ہوتے ہیں تو وہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر مولوی فقیر محمد کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے انٹرپول سے رجوع کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ مولوی فقیر محمد کو حال ہی میں افغانستان سےگرفتار کیا گیا ہے اور جمعرات کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ افغان حکام کو طالبان کمانڈر مولوی فقیر حیسن کی حوالگی کے بارے میں درخواست کی گئی ہے۔

وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں سنیچر کو ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں براہ راست افغان حکومت سے کہہ رہا ہوں کہ انہوں نے مولوی فقیر ممحمد کو پکھڑا ہے۔ آج میں یہ مسئلہ انٹر پول کے سامنے رکھوں گا تاکہ ہم انٹر پول کے ذریعے افغان حکومت کو قائل کر سکیں کہ وہ مولوی فقیر کو پاکستان کے حوالے کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’مولوی فقیر نے ہماری بہت سی جانیں ضائع کیں ہیں اور وہ بہت سے جرائم میں ملوث رہے ہیں۔‘

تحریکِ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ طالبان جب کمزور ہوتے ہیں تو وہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور اس دوران اپنے آپ کو مضبوط کرتے ہیں اور دوبارہ کارروائیاں شروع کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب طالبان کی طرف سے بات چیت کے لیے دعوت آئی تھی تو حکومت نے کھل کر اسے قبول کر لیا تھا لیکن جب ہم نے ان سے مذاکراتی ٹیم کے لیے نمائندوں کے نام مانگے تو انہوں نے عدنان رشید کا نام دیا تو اس سے ان کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سجھتے ہیں کہ طالبان مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔

وزیرِ داخلہ نے ایک بار پھر پاکستانی طالبان کو پیشکش کی کہ اگر وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ ہیں تو اپنی مذاکراتی ٹیم کا اعلان کریں اور بہتر ہوگا کہ حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمنٰ ہتھیار پھینک دیں۔

ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی طالبان کی شوری نے احسان اللہ احسان کو ان مذاکرات کے لیے مقرر کیا ہے

سنیچر کو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات کے بارے میں ابھی تک کسی حکومتی اہلکار سے رابط نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے طالبان شوریٰ کا دوبارہ کوئی اجلاس منعقد ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاہم وہ اب بھی حکومت کی طرف سے سنجیدہ مذاکرات کے منتظر ہیں۔

ترجمان کے مطابق جب حکومت کی طرف سے سنجیدہ بات چیت کا آغاز ہو جائے تب ہی وہ مذاکراتی کیمٹی کی منظور دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک حکومت کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہوا اور جب حکومت کی طرف سے کوئی مثبت جواب آ جائے تب ہی وہ کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔