کُرّم میں فرقہ وارانہ تشدد نیا نہیں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 فروری 2013 ,‭ 07:58 GMT 12:58 PST

کرم ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے باوجود علاقے میں فرقہ وارانہ تشدد کے مکمل خاتمے میں کامیابی نہیں ہو سکی ہے

پاکستان میں جہاں اکثر قبائلی علاقے شدت پسندی سے بُری طرح متاثر ہوئے ہیں وہیں کُرم ایجنسی ایسا قبائلی علاقہ ہے جسے عام شدت پسندی سے زیادہ فرقہ وارانہ تشدد نے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

ایک وقت تھا کہ حسین قدرتی نظاروں سے مالا مال یہ علاقہ مُلک کے دیگر قبائلی علاقوں کے مقابلے میں پُرامن سمجھا جاتا تھا لیکن گزشتہ پانچ؛چھ سال سے یہ فرقہ وارانہ تشدد کے لپیٹ میں ہے۔

کُرم ایجنسی کی سرحدیں اورکزئی، شمالی وزیرستان ایجنسی اور خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاوہ مغرب میں تین مقامات پر افغانستان کے صوبہ ننگرہار، پکتیا اور خوست سے ملتی ہیں۔

فرقہ واریت کا مسئلہ اس علاقے کے لیے نیا نہیں اور مبصرین کے خیال میں کُرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادت کی تاریخ کم از کم پچاس سال پرانی ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

دو ہزار گیارہ میں قومی اسمبلی کی انسانی حقوق سے متعلق سٹینڈنگ کمیٹی کے ’ان کیمرہ‘ اجلاس میں ملک کی سول اور فوجی قیادت نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ کرم ایجنسی میں حکومتی عمل داری نہ ہونے کے باعث گزشتہ چند برسوں کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں اور اس دوران فرقہ وارانہ جھڑپوں میں سولہ سو افراد ہلاک اور ساڑھے پانچ ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

فاٹا سیکرٹیریٹ میں تعینات ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ کُرم ایجنسی میں مختلف اوقات میں سُنی شیعہ فسادات میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ان کی صحیح تعداد کے بارے میں علم نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر موقع پر کوشش کی ہے کہ کُرم ایجنسی میں امن و امان قائم ہو لیکن بدقسمتی سے وہاں مستقل بنیاد پر ایسا نہیں ہو سکا۔

اس علاقے میں پہلی مرتبہ فرقہ وارانہ فسادات 1961 میں اس وقت ہوئے تھے جب لوئر کُرم کے صدر مقام صدہ میں ایک فرقے کے رہنما کے گھر پر فائرنگ کے نتیجے میں فساد بھڑک اُٹھا تھا۔ یہ جھڑپیں بعد میں لوئر اور وسطی کُرم تک پھیل گئیں اور اس میں کم از کم اکیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق ان جھڑپوں کے بعد فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پایا اور تقریباً دس سال تک علاقے میں مکمل امن و امان برقرار رہا۔

"چھ اپریل دو ہزار سات کو پہلی بار مُسلح طالبان نے اہل تشیع کے علاقے کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی تقریباً دو ہفتے تک جاری رہی جس میں پچاس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ اس جھڑپ کے بعد فریقین کے درمیان ایک بار پھر امن معاہدہ ہوا جس میں پاڑہ چنار، ٹل روڈ بھی ہر قسم کے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی لیکن بدقسمتی سے سولہ نومبر دو ہزار سات کو پاڑہ چنار میں پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے بعد سے فروری دو ہزار گیارہ تک ٹل پاڑہ چنار روڈ بند رہی اور فریقین کے درمیان وقفے وقفے سے لڑائی بھی ہوتی رہی۔"

سُبحان علی

صدہ ہی دوسری مرتبہ بھی علاقے میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کا مرکز بنا جب 1987 میں یہاں نامعلوم مُسلح افراد نے ایک مذہبی جلوس کو نشانہ بنایا تھا اور بعد میں یہ لڑائی پورے علاقے میں پھیل گئی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں سو کے قریب لوگ ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

نو برس بعد اس علاقے میں ایک بار پھر فرقہ وارانہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب 1996 میں مبینہ طور پر پاڑہ چنار کے سرکاری کالج میں تحتۂ سیاہ پر شیعوں کے خلاف نعرہ لکھنے پر سُنی اور شیعہ طلباء کے درمیان لڑائی چھڑ گئی۔ مقامی شہریوں نے اس لڑائی میں مداخلت کی جس کے بعد اس کا دائرہ پھیل گیا اور فریقین میں جھڑپیں اندازاً دس دن تک جاری رہیں جن میں ستر کے قریب لوگ ہلاک جبکہ اسّی سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

1996 کے بعد آنے والے برسوں میں ایجنسی کے مختلف مقامات پر شیعوں اور سنیوں میں جھڑپوں اور مسافر گاڑیوں پر مسلح افراد کے حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور پیواڑ ، بوشہرہ اور مالی خیل کے مقامات پر بڑی جھڑپیں ہوئیں ۔

دو ہزار سات میں اس علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی نے ایک نیا موڑ اس وقت لیا جب اہلِ تشیع کے مخالفین کو طالبان کی مدد حاصل ہوگئی اور اس کے بعد سے وقتاً فوقتاً پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار کی معروف شخصیت سبحان علی نے بی بی سی کو بتایا کہ چھ اپریل دو ہزار سات کو پہلی بار مُسلح طالبان نے اہل تشیع کے علاقے کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی تقریباً دو ہفتے تک جاری رہی جس میں پچاس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

"پاڑہ چنار کے حالات کا گہرا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان کے حالات کا بھی ہے۔ کُرم ایجنسی میں حالات طالبان شدت پسندوں نے خراب کیے ہیں لیکن بعض قوتیں ان کی فرقہ واریت کی ہوا دے رہی ہیں۔"

سید علی کاظمی

سُبحان علی کا کہنا تھا کہ اس جھڑپ کے بعد فریقین کے درمیان ایک بار پھر امن معاہدہ ہوا جس میں پاڑہ چنار، ٹل روڈ بھی ہر قسم کے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی لیکن بدقسمتی سے سولہ نومبر دو ہزار سات کو پاڑہ چنار میں پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے بعد سے فروری دو ہزار گیارہ تک ٹل پاڑہ چنار روڈ بند رہی اور فریقین کے درمیان وقفے وقفے سے لڑائی بھی ہوتی رہی۔

کرّم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار کی ایک سماجی تنظیم یوتھ آف پاڑہ چنارایک سماجی تنظیم نے علاقے میں دو ہزار سات سے دو ہزار بارہ کے درمیان پیش آنے والے ایسے تمام واقعات کا ریکارڈ جمع کیا ہے جس کے مطابق ان پانچ برس میں اس قسم کے سو سے زیادہ واقعات پیش آئے جن میں ایک ہزار سات سو ساٹھ افراد ہلاک اور چھ ہزار زخمی ہوئے جن میں سے دو سو پچاسی معذور ہو چکے ہیں۔

یوتھ آف پاڑہ چنار کے چیئرمین سید علی کاظمی نے بتایا کہ پاڑہ چنار کے حالات کا گہرا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان کے حالات کا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’کُرم ایجنسی میں حالات طالبان شدت پسندوں نے خراب کیے ہیں لیکن بعض قوتیں ان کی فرقہ واریت کی ہوا دے رہی ہیں۔‘

فرقہ واریت کے اس منظر میں طالبان کی شمولیت نے پہلی مرتبہ علاقے نے خودکش بم دھماکوں کا سامنا بھی کیا۔ پہلا واقعہ چار اگست دو ہزار سات کو ہوا جس میں تقریباً پندرہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ مئی دو ہزار آٹھ میں ایک انتخابی جلسے میں ہونے والا خودکش دھماکا سو سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور درجنوں کی معذوری کا سبب بنا۔

دو ہزار بارہ میں اس علاقے میں خودکش حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی اور اس سال تین بڑے حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے کُرم ایجنسی میں کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا اور سات آٹھ مہینوں سے ٹل، پاڑہ چنار مرکزی شاہراہ بھی ہر قسم کے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے۔ البتہ کُرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے شیعہ مسلک کے افراد کے پشاور اور دوسرے علاقوں میں ہدف بنا کر ہلاک ہونے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔