مردان میں پولیو ٹیم پر حملہ، ملاکنڈ میں نیا پولیو کیس

آخری وقت اشاعت:  منگل 26 فروری 2013 ,‭ 09:36 GMT 14:36 PST

صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلح ملاکنڈ کی تحصیل درگئی میں تین ماہ کی بچی خائست میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر مردان کے قریب پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا ہے۔

مردان کے پولیس کنٹرول روم کے مطابق پولیس اہلکار ایک پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور تھے اور ان پر دو افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔ یاد رہے کہ یہ مہم آج ہی شروع ہوئی تھی۔

یہ واقع تھانہ شیخ ملتون ٹاؤن کی حدود میں واقع ایک گاؤں خوا کلے میں پیش آیا اور ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کا نام کانسٹیبل سید محمد تھا۔

اُدھر پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلح ملاکنڈ میں تین ماہ کی بچی میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہو ئی ہے جس کے بعد اسی سال صوبے میں پولیو کے مریضوں کی تعداد دو ہو گئی ہے۔

گزشتہ سال اس عرصے کے دوران پاکستان میں چودہ بچے اس وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔

پاکستان میں اس سال پولیو کے تین مریض سامنے آئے ہیں جن میں سے ایک خیبر پختونخواہ کے ضلع بنوں اور دوسرے بچے کا تعلق صوبہ سندھ سے بتایا گیا ہے۔

صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلح ملاکنڈ کی تحصیل درگئی میں تین ماہ کی بچی خائست میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

"پاکستان میں انسداد پولیو کی مہم تو جاری ہے تاہم اس کی تشہیر نہیں کی جا رہی۔ خیبر پختونخواہ میں اب ہر ضلح کی سطح پر انسداد پولیو کی مہم شروع کی جاتی ہے لیکن اس کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا جاتا اور اس کی وجہ گزشتہ چند ماہ کے دوران انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے ہیں۔"

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان

خیبر پختونخواہ میں انسداد پولیو مہم کے حکام نے بتایا ہے کہ والدین کے مطابق متاثرہ بچی کو ایک مرتبہ پولیو کے خاتمے کے قطرے پلائے جا چکے ہیں لیکن اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا یہ قطرے پولیو کے خاتمے کے تھے یا کسی اور مرض کے خاتمے کے لیے پلائے گئے تھے۔

پاکستان میں گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران چودہ بچوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جن میں چار کا تعلق خیبر پختونخواہ اور پانچ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تھے۔ حکام کے مطابق تین بچے بلوچستان، ایک ایک صوبہ سندھ اور پنجاب میں متاثر ہوئے تھے۔

گزشتہ سال پاکستان میں اٹھاون بچوں میں پولیو کا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جن میں سے ستائیس خیبر پختونخواہ جبکہ بیس کا تعلق فاٹا سے تھا۔

پاکستان میں انسداد پولیو کی مہم ایک عرصے سے جاری ہے لیکن اس کے باوجود اس وائرس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا تاہم بھارت میں یہ وائرس تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

پشاور میں گزشتہ ہفتے یہ مہم مکمل کی گئی ہے اور حکام کے مطابق ٹیموں کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔

خیبر پختونخواہ میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ایک نمائندہ حمیرا نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں خطرات لاحق ہیں لیکن وہ یہ کام ضرور کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی جانب سے انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تو وہ اپنی ڈیوٹی بہتر طریقے سے سر انجام دے سکیں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے ایسا ہوا ہے کہ جن بچوں کو پولیو کے خاتمے کے قطرے پلائے جاتے ہیں انہیں بھی مرض لاحق ہو جاتا ہے جس کی وجوہات میں خوراک کی کمی یا بچوں میں دفاعی نظام کا کمزور ہونا ہے ۔

حکام نے بتایا کہ پاکستان میں ایک بچے کو پانچ سال کی عمر تک کم سے کم سات مرتبہ پولیو کے خاتمے کے قطرے پلانا انتہائی ضروری ہے تاکہ اس مرض کے وائرس کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔