خواتین پر تیزاب حملوں میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 14:00 GMT 19:00 PST
تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی ایک خاتون

تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی ایک خاتون

کہتے ہیں کائنات کا سارا حسن خواتین سے ہے اور کسی بھی عورت کے لیے اس کا چہرہ اس کے حسن کا پہلا اور بھرپور تعارف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بعض اوقات کچھ مردوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ خاتون کو حاصل نہیں کر پائیں گے تو اس عورت کی انا کو شکست دینے کے لیے اس کے چہرے اور جسم کو تیزاب سے جھلسا دیتے ہیں۔

نیلم بھی ایک ایسی ہی لڑکی ہے جس کا رشتہ بچپن سے اپنے خالہ زاد اویس سے طے تھا لیکن خاندانی جھگڑوں کے باعث جب نیلم کے والدین نے منگنی توڑنے کا اعلان کیا تو اویس نے اس پر تیزاب پھینک دیا۔

نیلم کہتی ہیں ’میرا بتیس فیصد جسم جل چکا ہے۔ آدھا چہرہ، آدھے بازو، دونوں ٹانگیں اور کمر تیزاب سے جل چکی ہیں۔‘

’میری اویس سے منگنی ہوئی تھی لیکن میں نے شادی سے انکار کردیا تو اس نے بدلہ لینے کے لیے یہ سب کچھ کیا کہ اگر یہ میرے ساتھ شادی نہیں کر رہی تو یہ کسی اور سے بھی شادی کے قابل نہ رہے۔‘

پاکستان میں جہیز یا رشتہ نہ ملنے اور خاندانی دشمنی جیسی وجوہات کی بنا پر خواتین پر تیزاب پھینک کر ان کے چہرے اور جسم جھلسانے کے واقعات کی خبریں آئے دن ذرائع ابلاغ میں آتی ہیں ۔

"دو ہزار گیارہ میں پارلیمنٹ نے تیزاب پھیکنے والوں کی سزاوں کو سخت کرنے کا قانون منظور کیا تھا لیکن عورت فاونڈیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق قانون کی منظوری کے ایک برس بعد خواتین پر تیزاب کے حملوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے"

دو ہزار گیارہ میں پارلیمنٹ نے تیزاب پھیکنے والوں کی سزاؤں کو سخت کرنے کا قانون منظور بھی کیا تھا۔

معروف وکیل آفتاب باجوہ کہتے ہیں ’اب تیزاب پھیکنے کی کم سے کم سزا چودہ سال کردی گئی ہے، دس لاکھ روپے جرمانہ اور مجرم کی جائیداد کی ضبطی بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ تیزاب پھیکنے والوں کو حملے سے ضائع ہونے والے اعضا کا معاوضہ بھی دینا ہوگا۔‘

سزائیں سخت ہونے کے بعد کیا حملوں میں کوئی کمی ہو سکی؟

عورت فاؤنڈیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق تو قانون کی منظوری کے ایک برس بعد خواتین پر تیزاب کے حملوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دو ہزار گیارہ میں تیزاب حملوں کے چوالیس کیس رپورٹ ہوئے تھے لیکن دو ہزار بارہ میں ان کی تعداد تراسی ہو گئی۔

تیزاب بازار

لاہور کا تیزاب بازار: یہ ہتھیار آسانی سے دستیاب ہے

عورت فاؤنڈیشن کی صوبائی رابطہ کار ممتاز مغل کہتی ہیں ’واقعات تو پہلے بھی ایسے ہی ہو رہے تھے اب واقعات رپورٹ زیادہ ہونے لگے ہیں، جس کی بنیادی وجہ ہے عوامی شعور ۔ لوگوں کی رسائی بڑھ چکی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی ایسا واقعہ ہو اس کی اطلاع پولیس اور میڈیا کو دی جائے اور اس شعور کو بیدار کرنے میں میڈیا نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے جو اس جرم کے خلاف بڑھ چڑھ کر آواز اٹھاتا ہے۔‘

نیلم پر جب تیزاب حملہ ہوا تو اسے لاہور کے میو ہسپتال کے برن یونٹ میں لایا گیا۔ میو ہسپتال کا برن یونٹ پنجاب میں سرکاری شعبے میں چلنے والے چند برن یونٹس میں سے ایک ہے جہاں تیزاب حملوں کا شکار ہونے والے افراد کے لیے محض چار بیڈز موجود ہیں ۔

نیلم کے معالج ڈاکٹر عمر نذیر کہتے ہیں کہ تیزاب حملوں کا شکار خواتین کا علاج ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے۔ گزشتہ برس میو ہسپتال کے برن یونٹ میں تیزاب سے متاثرہ دو سو خواتین کا علاج کیا گیا۔

’جب چہرے پر تیزاب پھینکا جاتا ہے تو چہرے کے خدوخال بگڑ جاتے ہیں عموعاً ناک اور آنکھیں متاثر ہوتیں ہیں اور جِلد بری طرح جھلس جاتی ہے اس علاج میں کئی ماہ درکار ہوتے ہیں۔ اور تیزاب حملوں کا شکار خواتین کے کئی کئی بار آپریشن کرنا پڑتے ہیں‘۔

تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی خاتون پارلر میں ملازمت

تیزاب سے متاثرہ خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’سمائل اگین‘ کے بیوٹی پارلر میں کئی متاثرین کام کرتی ہیں

لاہور میں تیزاب سے متاثرہ خواتین کے بحالی کے لیے قائم ایک غیر سرکار ی تنظیم ’سمائل اگین‘ کے بیوٹی پارلر میں کام کرنے والی بشریٰ کے چہرے کے اب تک چالیس کامیاب آپریشن ہو چکے ہیں جبکہ ناکام آپریشنز کی تعداد تو اب بشریٰ کو یاد بھی نہیں۔ بشریٰ پر اٹھارہ برس پہلے جہیز نہ لانے کے جرم میں اس کے شوہر اور سسرال والوں نے تیزاب پھینکا تھا۔ وہ کئی برس تک قانونی جنگ لڑتی رہیں لیکن کچھ ہاتھ نہیں آیا۔

بشریٰ کہتی ہیں ’ آٹھ نو سال تک میں اپنا کیس لڑتی رہی۔ علاج بھی کروایا اور انصاف لینے کے لیے پانی کی طرح پیسہ بھی بہایا۔ لیکن میرے شوہر کو سزا نہیں ہو سکی۔ اب مجھ میں لڑنے کی سکت نہیں۔‘

ایڈووکیٹ آفتاب باجوہ کہتے ہیں کہ اب ایسا نہیں۔ اب تیزاب حملوں کے مقدمات کی سماعت انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں کی جا رہی ہے۔

’اب تیزاب پھیکنا دہشتگردی ہے اور ایسے حملے کرنے والوں کے نام ہوم سکریٹری کے پاس دہشتگردوں کی فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں، اس لیے اب لوگ محتاط ہیں۔ لیکن نئے قانون کی مزید تشہیر کی ضررورت ہے‘۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران خواتین پر تیزاب حملوں کے خلاف معاشرے میں نفرت اور ردعمل بھی بڑھا ہے۔ اور ان خواتین کے لیے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے ۔

"اب تیزاب پھیکنا دہشتگردی ہے اور ایسے حملے کرنے والوں کے نام ہوم سکریٹری کے پاس دہشتگردوں کی فہرست میں شامل ہوجاتے ہیں، اس لیے اب لوگ محتاط ہیں۔ لیکن نئے قانون کو مزید مشتہر کرنے کی ضررورت ہے"

آفتاب باجوہ، ایڈووکیٹ

تیزاب حملوں سے متاثرہ خواتین کی بحالی کے لیے کام کرنے والی تنظیم سمائل اگین کی سربراہ مسرت مصباح کہتی ہیں ’میرے ادارے کے ساتھ پانچ سو ایسی بچیاں رجسٹرڈ ہیں جو تیزاب یا مٹی کے تیل سے جلائی گئیں۔ جیسے ہی یہ لڑکیاں جسمانی طور پر کام کرنے کے قابل ہوتی ہیں ہم انھیں کوئی نہ کوئی ہنر سکھانا شروع کردیتے ہیں‘۔

بشریٰ نے بھی یہیں سے بیوٹیشن کا کام سیکھا ہے وہ کہتیں ہیں ’ کام میں دل لگا رہتا ہے اب ہنر کی وجہ سے لوگوں کا رویہ بھی بدلا ہے اور جیسے زندہ رہنے کی امنگ پیدا ہوئی ہے‘۔

ادھر نیلم اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کا عہد کیے ہوئے ہیں وہ کہتی ہے ’مجھ میں جذبہ یہ ہوا ہے کہ میں وکیل بنوں اور اپنی جیسی دوسری خواتین کی مدد کرسکوں‘۔

بشریٰ اور نیلم کی باتیں سن کر یہ لگتا ہے کہ پاکستان میں جاری اس گھناؤنے جرم کی داستان اب امید کی کہانی میں تبدیل ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔