ایف آئی اے کی غیر قانونی وی او آئی پی کے خلاف کارروائی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 05:50 GMT 10:50 PST

غیر قانونی وی او آئی پی ٹریفکنگ کا مطلب یہ ہے کہ یہ افراد انتہائی جدید مشینری استعمال کر کے بیرون ملک سے آنے والی کالوں کو بغیر قانونی اجازت کے ملک کے نیٹ ورک پر منتقل کر رہے تھے

پاکستان کے اعلیٰ سویلین تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے اسلام آباد سے ایک تین رکنی گروہ کو گرفتار کیا ہے جو کروڑوں روپوں کی غیر ملکی کالیں پاکستانی نیٹ ورک پر غیر قانونی طریقے سے منتقل کر رہا تھا۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے غیر قانونی وی او آئی پی ٹریفکرز کے سدباب کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کے ایک رکن نے بی بی سی کو نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ رات اُن کی ٹیم نے اسلام آباد کے علاقے ایف الیون میں ایک کامیاب چھاپے میں تین افراد کو حراست میں لیا جو غیر قانونی وی او آئی پی ٹریفکنگ میں ملوث تھے۔

تھانہ سائبر کرائم راولپنڈی سرکل کے ایس ایچ او فاروق لطیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ گزشتہ رات گئے یہ کارروائی کی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور آج انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان افراد پر الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس کے دفعات چھتیس اور سینتیس اور پی پی سی ایک سو نو کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اسی کمیٹی کے ایک اور رکن نے بی بی سی کو تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی وی او آئی پی ٹریفکنگ کا مطلب یہ ہے کہ یہ افراد انتہائی جدید کمپیوٹر نیٹ ورک استعمال کر کے بیرون ملک سے آنے والی کالوں کو بغیر قانونی اجازت کے ملک کے مقامی نیٹ ورکس پر منتقل کر رہے تھے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ آپ کو کال امریکہ یا برطانیہ سے آ رہی ہوتی ہے مگر آپ کے فون پر نمبر ایک مقامی موبائل کا نظر آ رہا ہوتا ہے۔ اس طریقے سے اس کال کو براہ راست آپ تک منتقل کرنے کی بجائے یہ افراد غیر قانونی طور پر مقامی کمپنیوں کے نیٹ ورک پر منتقل کر دیتے ہیں جس سے حکومت کو کروڑوں روپے کا سالانہ نقصان ہورہا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ سب کیسے ممکن ہوتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کے سرور یعنی کمپیوٹرز بیرونِ ملک پڑے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ بغیر پاکستانی نیٹ ورک میں آئے یہ کارروائی کرتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے تخمینے کی بارے میں انہوں نے کہا کہ ’رات کو جس گروہ کو ہم نے گرفتار کیا ہے وہ کم از کم پچاس ملین منٹس کی بیرون ملک سے آنے والی کالیں ماہانہ غیر قانونی طور پر اندرونِ ملک منتقل کر رہے تھے۔ ایک کال پر اگر آپ سب اخراجات نکال کر کم از کم دو روپے ہی کا منافع لگائیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے کہ بات کہاں تک پہنچتی ہے اور یہ صرف ایک گروہ ہے جبکہ کئی ایسے گروہ ملک میں کام کر رہے ہیں اور منافع اس سے زیادہ ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔