قیامِ امن: جے یو آئی کی کل جماعتی کانفرنس

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 17:08 GMT 22:08 PST

جمعیت کی قیادت کے مطابق کانفرنس میں آنے والی قیادت سے امن کے قیام اورطالبان سے بات چیت کے لیے حمایت حاصل کرنا بھی کانفرنس کا سب سے بڑا مقصد ہے

انتخابات سے چند ماہ قبل پاکستان میں امن کا قیام آج کل کا سب سے بڑا موضوع ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں برسراقتدار عوامی نیشنل پارٹی کی کل جماعتی کانفرنس کو ابھی چند ہی دن ہوئے ہیں اورآج ایک بار پھر اسی قسم کی کل جماعتی کانفرنس اسلام آباد ہی میں ہونے جا رہی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے جھنڈے تلے ہونے والے اس کل جماعتی کانفرنس میں ملک کی 30 بڑی سیاسی اورمذہبی جماعتوں کی اہم قیادت اور قبائلی سطح پر بننے والے جرگے کے اراکین شریک ہو رہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے ترجمان عاصم خان نے بی بی سی کے نمائندے محمود جان بابر سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف ایک وفد کے ساتھ اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

دوسری طرف تحریکِ انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔ تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما حامد خان نے کہا کہ یہ سب کچھ ’امریکہ کی ایما پر انتخابات سے قبل فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔‘

اس سے قبل اے این پی کی کل جماعتی کانفرنس میں ملک کی دو اہم جماعتوں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے شرکت نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت ختم ہونے سے صرف چند دن قبل اس کانفرنس کا مقصد اے این پی کا سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

کانفرنس کے انتظامات کرنے والی کمیٹی کے رکن عبدالجلیل جان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’اس کانفرنس کے دوران قبائلی جرگے کے فیصلوں کے لیے حمایت حاصل کرنے کی بات سے ایک بات تو واضح ہے کہ جمعیت دراصل خود کچھ نہیں کہنے جا رہی بلکہ وہ قبائلی جرگے کے فیصلوں کو ہی لے کرآگے آرہی ہےـ‘

جمعیت کی قیادت کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں آنے والی قیادت سے امن کے قیام اورطالبان سے بات چیت کے لیے حمایت حاصل کرنا بھی کانفرنس کا سب سے بڑا مقصد ہےـ

جماعتِ اسلامی اور تحریکِ انصاف کی شرکت کے سوال پر انھوں نے کہا کہ اب تک کسی جماعت نے کانفرنس میں شرکت سے انکار نہیں کیا، اور سب نے ہماری دعوت کو قبول کیا ہے۔

جمعیت کے رہنما مولانا عطاالرحمٰن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم پچھلے پانچ برسوں سے امن کے لیے کوشاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فی الحال ہمارا طالبان سے رابطہ نہیں ہوا اس لیے اس مرحلے پر یہ بتانا مشکل ہے کہ ان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

پاکستان میں بدامنی سے نمٹنے کی خواہش ہرسطح کے ہرطبقے میں رہی ہے لیکن دیگرکوششوں کی طرح ماضی میں ایسی کل جماعتی کانفرنسیں بھی خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں کرسکیں۔

14 فروری کو ویلنٹائنز ڈے کے موقعے پر اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کی دعوت پر بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے حل کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر جدوجہد کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

کانفرنس کے اختتام پر اس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق کل جماعتی کانفرنس میں حصہ لینی والی تمام سیاسی اور مذہتی جماعتیں عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اور ان کی پارٹی کو امن کے قیام کے لیے کل جماعتی کانفرنس پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ اس کانفرنس کو آج کے سب سے اہم قومی مسئلے کے حل کے لیے مناسب اقدام سمجھتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔