’انتخابات سے قبل کراچی میں حلقہ بندیاں ضرور ہوں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 11:31 GMT 16:31 PST

حلقوں کی حدود میں رد و بدل آئین کے آرٹیکل 51 اور حد بندی ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں ہے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کراچی میں انتخابی حلقہ بندیوں میں ردو بدل کا فیصلہ موخر کرنے کے بارے میں الیکشن کمیشن کی درخواست مسترد کردی ہے اور انتخابات سے قبل منصفانہ حد بندی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ حلقوں کی حدود میں رد و بدل آئین کے آرٹیکل 51 اور حد بندی ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل منیر پراچہ کا کہنا تھا کہ ملک میں عام انتخابات کے انعقاد میں کم وقت رہ گیا ہے، اور الیکشن کمیشن کی نگاہ شفاف عام انتخابات پر ہے۔ انھوں نے اپنا پرانا موقف دہرایا کہ مردم شماری سے پہلے حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتی،اس لیے حکم کو موخر کیا جائے۔

جسٹس عارف حسین خلجی کا کہنا تھا کہ حکم موخر کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ نے غلط حکم جاری کیا تھا، اسی لیے واپس لیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل منیر پراچہ کا کہنا تھا کہ ان کا ہرگز یہ مطلب نہ تھا، دراصل انتخابات میں 67 دن رہے گئے ہیں۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ الیکشن کب کرائیں گے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل منیر پراچہ نے انہیں آگاہ کیا کہ قومی اسمبلی کی مدت 16 مارچ کو پوری ہو رہی ہے۔

جسٹس خلجی عارف حسین نے متنبہ کیا کہ کسی کو بھی انتخابات ملتوی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور کسی کو خواب میں بھی اس بارے میں سوچنے نہیں دیں گے۔ بقول ان کے وہ انتخابات ملتوی کرانے کے بارے میں ایک لفظ بھی سنننے کو تیار نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ کی اس بینچ کے سربراہ جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ 28 اکتوبر کو الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کے بیان کی روشنی میں یہ حکم جاری کیا گیا تھا، لگتا ایسا ہے کہ الیکشن کمیشن اور حکومت کی خواہش نہیں ہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے واضح کیا کہ حلقے بنانے اور حدود میں ردوبدل کرنے میں فرق ہے، حکم پر عمل درآمد کی راہ میں آئین اور ڈی لِمیٹیشن ایکٹ رکاوٹ نہیں ہے۔ بقول ان کے 2011 میں حکم آیا اور 2013 میں حکومت دوسرا موقف پیش کر رہی ہے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا اور عدلت کے حکم پر عملدرآمد کا یقین دہانی کرائی۔

"انتخابات ملتوی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور کسی کو خواب میں بھی اس بارے میں سوچنے نہیں دیں گے۔"

جسٹس خلجی عارف حسین

جسٹس عارف حسین خلجی کا کہنا تھا کہ نئے حلقے بنانے کے لیے مردم شماری ضروری ہے لیکن حلقوں کی حدود میں رد و بدل کے لیے نہیں۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے لیے بدنیتی کا لفظ استعمال نہیں کریں گے، حالاں کہ عدالت کے واضح حکم کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ منصفانہ حد بندیوں کے لیے حکم جاری کیا تھا حلقہ بندیوں کے لیے نہیں، اس حکم سے قومی اسمبلی کی نشستیں نہ بڑھ سکتیں اور نہ ہی کم ہوسکتی ہیں۔ جسٹس سرمد جلال نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 51 قومی اسمبلی کے نشتسوں کے بارے میں ہے ان کا حد بندی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دریں اثنا سماعت کے موقعے پر عدالت نے آئی جی سندھ پولیس فیاض لغاری کا معافی نامہ قبول کرلیا ہے، جس کے بعد ان کے خلاف شوکاز نوٹس واپس لے لیا گیا ہے۔ آئی جی کا کہنا تھا کہ جرائم میں ملوث 800 افسران اور اہل کاروں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، ان میں سے کچھ معطل ہوچکے ہیں جب کہ دیگر کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔