کشمیری نوجوان کی پراسرار ہلاکت، تحقیقات کا حکم

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 15:11 GMT 20:11 PST
ایل او سی

لواحقین کا الزام ہے کہ نوجوان کو پاکستان کی فوج کے خفیہ اداروں نے ہلاک کیا ہے

پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پراسرار طور پر ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کی موت کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

ضلع کوٹلی کے رہائشی 26 سالہ محمد علی مرتضیٰ دس دن پہلے لاپتہ ہوگئے تھے اور گمشدگی کے دو دن بعد ان کی لاش ملی تھی۔

لواحقین کا الزام ہے کہ مرتضیٰ کو پاکستان کی فوج کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے تشدد کر کے ہلاک کیا۔

اس واقعے کے خلاف پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سخت رد عمل پایا جاتا ہے اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس واقعہ کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔

بی بی سی کے رابطہ کرنے پر پاکستانی فوج کے حکام نے کہا کہ کشمیری نوجوان کی ہلاکت کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کے لیے مشترکہ تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کے ڈپٹی کمشنر مسعود الرحمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ واقعے کی تحقیقات متعلقہ ادارے قانون کے مطابق کر رہے ہیں اور یہ کہ ورثاء کو بھی تفتیشی عمل سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جس میں ’انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔‘

مرتضیٰ کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کے گاؤں اگہار سے تھا۔ لواحقین کہتے ہیں کہ وہ 17 فروری کو اپنی خالہ زاد بہن سے ملنے کے لیے اسی ضلع میں واقع گاؤں جنجوڑ بہادر گئے تھے کہ انہیں گھر پہنچے سے پہلے ہی اغوا کر لیا گیا۔

کشمیری نوجوان کی خالہ زاد بہن اسی گاؤں میں بیاہی گئی ہیں اور وہ اکثر ان کے گھر جایا کرتا تھا۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے کے تیسرے روز انھیں مرتضی کی لاش مقامی ضلعی انتظامیہ کے ذریعے ملی۔

علی مرتضیٰ کے چچا زاد بھائی چوہدری امجد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے انتظامیہ کی مدد سے (اپنے گمشدہ عزیز کی) تلاش شروع کی اور (تیسرے روز) ہمیں انتظامیہ کے ذریعے لاش ملی، لاش پر تشدد کے نشانات تھے، بےدردی کے ساتھ اسے مارا پیٹا گیا تھا‘۔

بی بی سی نے اس کشمیری نوجوان کی لاش کی تصویریں بھی حاصل کیں جو ان کے رشتہ داروں نے دفنانے سے کچھ دیر پہلے اتاری تھیں۔

ان کے پورے جسم پر تشدد کے نشان واضح نظر آتے ہیں۔

مرتضی جس گاؤں سے لاپتہ ہوگیا تھا وہ عین لائن آف کنٹرول پر واقع ہے اور وہاں پاکستان کی فوج کی چوکیاں بھی ہیں۔ حساس علاقہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی فوج کے خفیہ اداروں کے اہلکار بھی وہاں ہر وقت موجود رہتے ہیں اور ہر آنے جانے والے پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ایک افسر نے کہا کہ فوج نے اپنے طور پر کشمیری نوجوان کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا تھا اور رپورٹ کے مطابق ان کی موت تشدد کی وجہ سے ہوئی ہے۔

علی مرتضیٰ ایک بیکری میں کام کرتے تھے۔ ان کے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں اور ان کے والد لاہور میں ایک مسجد میں امامت کرتے رہے ہیں۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ مرتضی کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی اور نہ ہی ان کا کسی سیاسی، مذہبی یا شدت پسند تنظیم سے کوئی تعلق رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔